حسن آرا کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ مسجد میں وہیل چیئر پر بیٹھے شوہر فرید کے سامنے اس وقت چھلانگ مار کر پہنچ گئیں جب دہشت گرد ان پر گولی چلانے والا تھا۔ نتیجتاً وہ شہید ہو گئیں اور فرید بچ گئے۔
تنویر احمد قومی آواز نیوز نیورو
امن پسندی کے لیے مشہور نیوزی لینڈ کے کرائسٹ چرچ میں جمعہ کے روز جو کچھ ہوا اس نے پوری دنیا کو ششدر کر دیا ہے۔ نمازِ جمعہ کے وقت دو مساجد میں اندھا دھند فائرنگ ہوئی اور ایک میں لاشوں کے ڈھیر لگا دینے والے برینٹن ٹیرنٹ نے جہاں زیادہ سے زیادہ مسلم نمازیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی وہیں چشم دیدوں نے کچھ ایسے لوگوں کے بارے میں بھی بتایا جنھوں نے اپنی شہادت دے کر دوسروں کی جان بچائی۔ 49 شہیدوں میں سے ایسے ہی ایک شہید کا نام داؤد نبی ہے جن کی عمر 71 سال تھی۔ جب داؤد نبی کا بیٹا یما نبی کچھ تاخیر سے نمازِ جمعہ کے لیے مسجد پہنچا تو اسے وہاں ہوئی گولی باری کے بارے میں پتہ چلا اور اس کا ایک دوست رمضان بار بار کہہ رہا تھا کہ ’’تمہارے والد نے میری جان بچائی، تمہارے والد نے میری جان بچائی۔‘‘
Daoud Nabi, 71, was the first of the 49 #ChristChurch victims to be identified.
He stood at the door, ready to pray, and welcomed the terrorist inside, "come in brother” were his last words.
The grandfather died trying to save someone else from a bullet. pic.twitter.com/4LF4QiXvrb
— Khaled Beydoun (@KhaledBeydoun) March 15, 2019
داؤد نبی کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ پہلے شخص تھے جنھیں شہید ہوئے لوگوں میں پہچانا گیا۔ جب دہشت گرد مسجد میں داخل ہو رہا تھا تو وہ دروازے پر کھڑے تھے اور انھوں نے کہا تھا ’’آ جاؤ بھائی‘‘۔ یہ جملہ داؤد نبی کا آخری جملہ تھا کیونکہ اس کے بعد وہ دہشت گرد کی گولیوں کا نشانہ بن گئے۔ داؤد نبی کے ایک دیگر بیٹے عمر نبی کا بیان بھی میڈیا میں آ رہا ہے جنھوں نے کہا کہ ’’وہ ڈینس ایونیو مسجد میں اس وقت گولیوں کا نشانہ بن گئے جب اپنے ساتھی نمازیوں کو بچانے کے لیے دہشت گرد کے سامنے کھڑے ہو گئے۔‘‘ بتایا یہ بھی جا رہا ہے کہ جدھر جدھر ٹیرنٹ گولی چلا رہا تھا داؤود اسی طرف بھاگ رہے تھے۔ یقیناً وہ بہت بہادر تھے۔
This is Omar Nabi, an Afghani living in #Christchurch. His father Daoud Nabi was shot at the Deans Avenue mosque as he tried to shield a fellow worshipper as the gunman opened fire. pic.twitter.com/WZdoF6fzDs
— Dominic Harris (@DominicHarris8) March 15, 2019
جن 49 شہیدوں کی خبریں میڈیا میں گشت کر رہی ہیں ان میں سب سے کم عمر شہید کا نام لوکا ابراہیم ہے جو اپنے رشتہ دار کے ساتھ مسجد میں نماز ادا کرنے گیا تھا۔ اس معصوم نے تو ابھی دنیا دیکھنی شروع ہی کی تھی لیکن دہشت گردی کا شکار ہو گیا۔ وہ اپنے والد کے ساتھ مسجد میں عبادت کے لیے گیا تھا۔ اس کی شہادت کی توثیق اس کے والد اور بھائی دونوں نے کی۔ بھائی عبدی نے بتایا کہ وہ یہ سمجھ رہا تھا کہ شاید ابراہیم زخمی حالت میں اسپتال میں ہوگا، لیکن وہ مسجد میں ہی شہید ہو گیا۔
"The Youngest” | Muca Ibrahim was only 3 years old.
He was killed by terrorist in #ChristChurch, and is the youngest of the 49 slain Muslims. He has his whole life ahead of him.
Remember him like this, smiling wide, with his brother Abdi. pic.twitter.com/kzjfq1plSA
— Khaled Beydoun (@KhaledBeydoun) March 16, 2019
عبداللہ دِری بھی ان معصوم شہیدوں میں شامل ہے جو اپنے والد کے ساتھ نماز پڑھنے تو گیا لیکن داعی اجل کو لبیک کہہ کر اپنے گھر والوں کو غمزدہ کر گیا۔ اس معصوم فرشتے کی عمر چار سال تھی اور وہ اپنے والد و بھائی کے ہمراہ مسجد پہنچا تھا۔ وہ بہت خوش تھا جب اپنے سرپرست کے ساتھ مسجد اللہ کی عبادت کے لیے پہنچا۔ اندھا دھند فائرنگ کے بعد کی ایک تصویر سوشل میڈیا میں وائرل ہو رہی ہے جس میں اس کے جسد خاکی کو اس کے والد اپنے ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے ہیں۔
"Little Angel” | Abdullahi Dirie was only 4 years old.
He prayed alongside his siblings and father yesterday in #ChristChurch.
Here, he is held by a loved one, no longer with us. He was the second youngest victim. 1/49 gone TOO SOON. pic.twitter.com/zjw4l9xsA5
— Khaled Beydoun (@KhaledBeydoun) March 16, 2019
نعیم راشد اور ان کے بیٹے طلحہ راشد کی شہادت بھی سرخیاں بن رہی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ نعیم راشد نے اپنے بیٹے طلحہ کو اپنی آنکھوں کے سامنے شہید ہوتے دیکھا اور آس پاس مرد و خواتین کی پڑی ہوئی لاشوں کو بھی دیکھا۔ یہ سب دیکھ کر نعیم انتہائی بہادری کے ساتھ بندوق بردار دہشت گرد کی طرف خالی ہاتھ ہی دوڑ پڑے اور اس کا مقابلہ کیا، اور یہ مقابلہ اس وقت تک کیا جب تک کہ وہ خود شہید نہیں ہو گئے۔ اصل معنوں میں انھوں نے ایک ہیرو کی طرح لوگوں کی جان بچانے کی کوشش کی۔ طلحہ راشد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ 21 سالہ کالج طالب علم تھا جو والد کے ساتھ مسجد میں عبادت کے لیے گیا تھا
This is Naeem Rashid.
Even as his son Talha was shot and people around him lay bleeding in the mosque, he rushed the gunman, with no weapon, just his bare hands.Both he and his son lost their lives.#NewZealandTerroristAttack#christchurch pic.twitter.com/CVMPmfFiHp
— Muhammad Lila (@MuhammadLila) March 15, 2019
شہیدوں میں حسن آرا پروین کا نام بھی ایک بہادر کے طور پر لیا جا رہا ہے جنھوں نے اپنے شوہر کی حفاظت میں اپنی جان قربان کر دی۔ خبروں کے مطابق وہ اپنے شوہر فرید اور بیٹی کے ساتھ نماز ادا کرنے کے لیے گئی تھیں۔ شوہر فرید وہیل چیئر پر تھے جب ان پر برینٹن ٹیرنٹ نے فائرنگ کی۔ لیکن حسن آرا تیزی کے ساتھ اپنے شوہر اور دہشت گرد کے درمیان آ گئیں اور گولیوں کو اپنے جسم پر لے لیا۔ جو بھی اس خاتون کی بہادری قربانی کے بارے میں سن رہا ہے، وہ انھیں حقیقی معنوں میں ’ہیر‘ ٹھہرا رہا ہے۔