مالیگاﺅں2008 بم دھماکہ معاملہ
ممبئی:25 اکتوبر(ای میل) مالیگاﺅں 2008ءبم دھماکہ معاملے کے کلیدی ملزم کرنل شریکانت پروہیت کو آج اس وقت ممبئی ہائی کورٹ میں ناکامی ہاتھ لگی جب متاثرین کی نمائندگی کرنے والی تنظیم جمعیة علماءمہاراشٹر (ارشد مدنی) کے وکلاءنے ہائی کورٹ میں بروقت مداخلت کرتے ہوئے عدالت کو مقدمہ کے متعلق حقائق سے آگاہ کیا اور ارجنٹ سماعت کی مخالفت کی۔نچلی عدالت کے فیصلہ پر اسٹے حاصل کرنے کے لیئے بے چین کرنل پروہیت نے آج ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے سامنے عرضداشت داخل کی تھی لیکن جسٹس ایس ایس شندے اور جسٹس گڈگری کی عدم موجودگی کے سبب اپیل پر سماعت نہیں ہوسکی جس کے بعد کرنل پروہیت کے وکیل شیودے نے جسٹس رنجیت مورے کے سامنے معاملے کی ارجنٹ سماعت کیئے جانے کی درخواست کی لیکن عدالت میں موجود جمعیة علماءکے وکلا ءایڈوکیٹ شاہد ندیم اور ایڈوکیٹ ساجد قریشی نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے جسٹس مور ے کے روبرو گذشتہ دنوں جسٹس شندے اور جسٹس گڈگری کے ذریعہ دیا گیا فیصلہ پیش کیا جس میں نچلی عدالت کو حکم دیا گیا ہیکہ مقدمہ کی سماعت بلا تاخیر کے روز بہ روز کی جائے ۔جسٹس مورے نے فیصلہ پڑھنے کے بعدکرنل پروہیت کو کہا کہ وہ کل جسٹس شندے اور جسٹس گڈگری کی عدالت سے رجوع کرے ۔عیاں رہے کہ نچلی عدالت نے کل یعنی کے ۶۲ اکتوبر کو چارج فریم کرنے کا دن متعین کیا ہے جس کی وجہ سے بھگواءملزمین سخت پریشان ہیں اور نچلی عدالت کے فیصلہ پر اسٹے حاصل کرنے کے لیئے پرتول رہے ہیں ۔کل پتہ چلے گا کہ آیا ہائی کورٹ کرنل پروہیت و دیگر بھگواءملزمین کو راحت دیتی ہے یا نچلی عدالت چارج فریم کرکے باقاعدہ مقدمہ کی سماعت شروع کردیگی۔