نچلی عدالتوں میں ججوں کی تقرری: سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ، امیدواروں کے لیے تین سال کی وکالت لازمی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے نچلی عدالتوں میں ججوں کی تقرری سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ سول جج (جونئر ڈویژن) کے عہدے کے امیدواروں کے لیے کم از کم تین سال کی وکالت لازمی ہوگی۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ ریاستی حکومتیں اور تمام ہائی کورٹس متعلقہ قواعد و ضوابط میں ترمیم کریں تاکہ اس فیصلے پر عملدرآمد ممکن ہو۔

سپریم کورٹ کے مطابق، یہ ضروری ہے کہ سول جج (جونئر ڈویژن) کے امتحان میں شریک ہونے والے کسی بھی امیدوار کے پاس عدالتوں میں تین سال کی وکالت کا تجربہ ہو۔ یہ تجربہ بار میں کم از کم 10 سال سے رجسٹرڈ وکیل سے تصدیق شدہ ہونا چاہیے۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ جو امیدوار پہلے ہی لا کلرک کے طور پر کام کر چکے ہوں، ان کی اس مدت کو بھی قابل قبول تجربے میں شامل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، منتخب ہونے والے جج صاحبان کو عدالتی کارروائی شروع کرنے سے پہلے ایک سال کی تربیت لینا ضروری ہوگا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading