اعظم گڑھ کے دیدار گنج سے حذیفہ رشادی امیدوار ہیں، حذیفہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلباء لیڈر اور یونین سیکریٹری بھی ہیں، اب ایم آئی ایم نے یہاں پر اپنی طرف سے ایک اور مسلمان کو امیدوار بنادیاہے جوکہ یقینی طورپر حذیفہ جیسے تعلیمیافتہ مسلمانوں کے لیے مفید اور قابل لیڈر کو نقصان پہنچائے گا،
ہم نے اترپردیش میں سیکولر پارٹیوں کی مکاری کےخلاف اویسی کی حمایت کی، اترپردیش کے تناظر میں اویسی کو بی۔ٹیم کہے جانے کی برعکس تصویر پر دلائل خود ہم نے دیے، لیکن یہ سب کیا ہے؟ اس سے تو بالکل اتفاق نہیں کرسکتے، کوئی بھی سیاسی سمجھ رکھنے والا ذمہ دار مسلمان اتفاق نہیں کرسکتا ہے،
پہلے تو اترپردیش میں ایم آئی ایم کی یہی پالیسی بالکل سمجھ میں نہیں آئی کہ اس نے اترپردیش کی مقامی مسلم سیاسی پارٹیوں سے اتحاد کیوں نہیں کیا؟ مولانا عامر مدنی کی علماء کاؤنسل اور ڈاکٹر ایوب کی پیس پارٹی تو اترپردیش میں مسلم سیاست کی نمائندہ ہیں گراؤنڈ نیٹورک اور حیثیت بھی رکھتے ہیں، یہ تو نام نہاد سیکولر جماعتیں نہیں ہیں، ان سے اتحاد کیوں نہیں کیاگیا؟ لیکن میں نے اب تک اس پر سوال نہیں اٹھایا تھا البتہ اب یہ حذیفہ کےخلاف ایم آئی ایم نے امیدوار اتار کر اپنی اس غلطی کو مزید تشویشناک رخ دےدیا ہے، مسلمانوں کی مقامی سیاسی جماعتوں سے اتحاد کےبغیر سیاست کرنا اور پھر ان کے نوجوان مسلم لیڈر کے خلاف امیدوار اتارنا یہ تو اپنی سیاست اور اپنی قیادت کا کوئی جائز طریقہ نہ ہوا۔
دیکھیے ہم نے پہلے بھی کہا ہےکہ اگر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے کوئی لیڈر نکل کے آتا ہے تو پھر وہ چاہے جس پارٹی سے الیکشن لڑے مسلمانوں کو اسے جتانا چاہیے، جیسے ابھی اترپردیش میں علی گڑھ
مسلم یونیورسٹی یونین کے صدر سلمان امتیاز علی گڑھ سے الیکشن لڑ رہےہیں گرچہ کانگریس سے لیکن ہم ان کی حمایت کرتےہیں، ایسے ہی سابق یونین صدر مشکور عثمانی نے بہار سے الیکشن لڑا ان کی بھی حمایت کی گئی، اب حذیفہ تو خالص مسلم سیاسی جماعت کی طرف سے امیدوار ہیں، انہیں جیتنے دینا چاہیے، سلمان امتیاز ہوں یا حذیفہ رشادی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے نکلنے والے نوجوان لیڈر ہیں جنہیں ماب لنچنگ سے لے کر CAA این آر سی کےخلاف قومی مسائل کی نمائندگی کی وجہ سے کئی بار پولیس اور جیل کا سامنا کرنا پڑا ہے، انہیں اسمبلی میں جانے کا حق ہے، یہ نوجوان لیڈران ہمارے لیے مفید ہی ہوں گے، ایسے تعلیمیافتہ اور باشعور لیڈروں کی تو ضرورت ہے، جو ہماری بات بلا جھجھک کہہ سکیں ۔
امید کرتاہوں کہ صدر مجلس اترپردیش میں حذیفہ کےخلاف اتارے گئے اپنے امیدوار کو واپس لیں گے _
✍: سمیع اللہ خان
ksamikhann@gmail.com