پربھنی میں عبدالمجیب کی کتاب کے جلسۂ اجراء میں معروف شخصیات کا اظہارِ خیال
پربھنی:22؍اپریل ( ورقِ تازہ نیوز) ڈاکٹر عبدالمجیب کی تصنیف ’’ امام الدین یقینؔ کا پربھنی کی صحافت اور ادب میں مقام‘‘ کا اجراء محمد تقی مدیر اعلیٰ روزنامہ ورقِ تازہ ناندیڑ و پربھنی کے ہاتھوں تزک و احتشام سے عمل میں آیا۔ محمد تقی نے مرحوم امام الدین یقینؔ کی ادبی، صحافتی اور سماجی خدمات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایسی شخصیات کئی دہائیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ اُن سے پہلی بار میری قربت کا سبب مرزا غالبؔ کا وہ شعر ہے جس کو اُنھوں نے پربھنی میں مرحوم رشید انجینئر کی ایک تہنیتی تقریب میں پڑھا تھا۔ جب رشید انجینئر کو ایگزیکٹیو انجینئر کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی، شعر ملاحظہ فرمائیں ؎
قطع کیجئے نہ تعلق ہم سے
کچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی
دراصل یقینؔ صاحب نے یہ شعر رشید انجینئر سے اُن کے سیاسی نظریات سے اختلاف کے پس منظر میں کہا تھا۔ سینئر صحافی نے کہا کہ اُنھوں نے یقینؔ صاحب کو سُن کر اردو سیکھی۔ اُنھیں دیکھ کر اخلاقیات سیکھے۔ زندگی کا دبی، سماجی و سیاسی شعور اُن کی صحبتوں سے حاصل ہوا۔ محمد تقی نے بتایا کہ وہ خود مرحوم ابراہیم اختر، مرحوم کامریڈ سید اعظم، مرحوم سہیل احمد رضوی نے یقین صاحب کے سامنے زانوے ادب تہہ کیا ہے۔ اُنھوں نے فراق گورکھپوری کے مشہور زمانہ شعر کے حوالے سے کہا کہ اُنھیں فخر حاصل ہے کہ اُنھوں نے یقین صاحب کو دیکھا ہے۔ پھر فراق کے شعر سے تخلص ’’ فراقؔ‘‘ کو ہٹا کر اُسی جگہ ’’ یقین‘‘ کو شامل کرکے شعر یوں پڑھا مگر فراق گورکھپوری کی روح سے معذرت خواہی کے ساتھ ؎
آنے والی نسلیں تم پر فخر کریں گی ہم عصرو!
جب یہ دھیان آئے گا اُن کو‘ تم نے ’’ یقین‘‘ کو دیکھا تھا
محمد تقی نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ سن 1981ء تا 2000ء عیسوی کا زمانہ پربھنی کا ادبی سنہری دور ’’ گولڈن ایرا‘‘ کہلایا جاتا ہے، اس دور میں شہر میں تین بڑے ادبی، سماجی اور سیاسی گروپ قائم تھے۔ ایک امام الدین یقین کا، دوسرا رشید انجینئر کا اور تیسرا پروفیسر تراب علی کا۔ تینوں گروپ میں پروگراموں کو لے کر مقابلہ آرائی ہوتی رہتی تھی جس کے نتیجے میں بڑے شاندار، معیاری اور کامیاب ادبی پروگرام ہوتے رہتے تھے۔ اُنھوں نے عبدالمجیب کی کتاب کو پربھنی کی ادبی، ثقافتی، سماجی، تاریخی دستاویز بتایا، جس سے آنے والی نسلیں فیض حاصل کرتی رہیں گی۔
اتوار 20؍اپریل 2025ء کو دوپہر 11 بجے برائٹ اسٹار انگلش اسکول، اقبال نگر میں منعقدہ اس تقریب اجراء کی صدارت جناب محمد غوث سابقہ پرنسپل ڈاکٹر ذاکر حسین جونیئر کالج نے کی۔ اُنھوں نے یقین صاحب سے اپنے خاندانی مراسم کا خوبصورت انداز میں ذکر کیا۔ ڈاکٹر نورالامین نے کتاب کی افادیت اور اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے یقین صاحب کی عوامی خدمات کا احاطہ کیا۔ اس موقع پر غلام محمد مٹھو نائب صدر آل انڈیا میمن اسوسی ایشن، عبدالحفیظ فرزند امام الدین یقین، سینئر کانگریسی لیڈر لیاقت انصاری، وارم کے سیکریٹری شیخ معروف، شفیع احمد شفیع، اقبال مجید اللہ اور ڈاکٹر عبدالمجیب ( صاحبِ کتاب) نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ نظامت کے فرائض محمد ضیاء الدین ( سینئر صحافی) نے بحسن و خوبی انجام دیئے۔ جلسہ میں بڑی تعداد میں ادب نواز احباب نے شرکت کی۔ آخر میں محمد اخترالدین کی پُرسوز ، مترنم دُعا پر جلسہ کا اختتام عمل میں آیا۔ جلسہ کے فوری بعد مشاعرہ ہوا، جس میں مقامی و بیرونی شعرائے کرام نے کلام سُنایا۔