نئی دہلی: نفرت انگیز اور فرقہ وارانہ سیاست کو ملک کی بربادی کی وجہ قرار دیتے ہوئے عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے کہا کہ اگر یہی فرقہ وارانہ اور نفرت انگیز سیاست جاری رہی تو ملک کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ کل شام یہاں منعقدہ جیوتی باپھولے کی 129 ویں برسی پر منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یہ بات کہی۔
Program on Mahatma Jyotiba Phule in Delhi. Mr. Kundan (News 24), Mr. Tipu Fateh (RS TV), Mr. Sanjay Singh, MP (Rajya Sabha) and Prof. Veeramani (JMI) spoke in the program. I thank Mohd Kaif and his NGO New Socio-Economic Development and Research for organising this program. pic.twitter.com/wtY6JpvRBO
— Abdul Hafiz Gandhi (अब्दुल हफीज़ गाँधी ) (@hafizgandhi) November 28, 2019
انہوں نے موجودہ سیاسی پس منظر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مہاتما جیوتی با پھولے نے سماج میں عدم مساوات، چھوا چھوت، سخت گیری اور سب کو یکساں احترام کے لئے آواز اٹھائی تھی۔ ہمیں اس فلسفے کو نہ صرف زندہ کرنا ہے بلکہ موجودہ سماجی تانے بانے کو پٹری پر لانے کے لئے اس پرعمل کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ یہاں جمع ہوئے ہیں وہ ایک آواز ہیں اور یہ آواز معاشرے میں انقلاب پربا کرے گی۔
سنجے سنگھ نے کہاکہ ملک اور سماج کو سخت گیریت اور انتہا پسندانہ سوچ نے برباد کیا ہے، انہوں نے تمام شرکاء سے یہ عہد کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے ملک اور اپنے سماج میں موجود سخت گیریت اور انتہا پسندی کے خلاف ہمیں میدان میں اترنا ہوگا خواہ وہ انتہا پسندی اپنے فرقہ میں ہی کیوں نہ ہو۔
مشہور سماجی کارکن اور لاء کالج لکھنو کے اسسٹنٹ پروفیسر عبدالحفیظ گاندھی نے جیوتی باپھولے کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سماجی ناآہنگی اور عدم مساوات کے خلاف جنگ چھیڑنے والے جیوتی با پھولے نے سب سے پہلے پسماندہ اور نچلے طبقے کے خلاف انگریزی حکومت سے ریزرویشن کا مطالبہ کیا تھا اور اس کے لئے لڑائی بھی لڑی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ انگریزی حکومت نے جیوتی با پھولے کی مانگ ٹھوکرادی تھی اس کے باوجود ان کی جدوجہد جاری رہی تھی جس کا نتیجہ آزادی کے بعد ریزرویشن کی شکل میں آیا۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
