سابق اہلکار سنجیو بھٹ وہی ہیں جو سنہ 2002 میں گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے مبینہ کردار پر تنقید کرتے رہے ہیں۔
احمد آباد۔ ۲۰؍جون: (نیوز ۱۸؍اردو/بی بی سی) گجرات کے جام نگر کی ایک عدالت نے برخاست آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ (55) کو تقریبا تین دہائی پرانے حراست میں موت (كسٹوڈيل ڈیتھ) سے منسلک ایک معاملہ میں آج عمر قید کی سزا سنائی۔
استغاثہ کے مطابق مسٹر بھٹ نے جام نگر کے اس وقت کے ایڈیشنل پولیس سپرنٹنڈنٹ کے طور پر شہر جام نگر میں 1989 میں ہونے والے فسادات کے دوران 150 افراد کو حراست میں لینے کے احکامات دئیے تھے۔حراست سے آزاد کئے جانے کے بعد ان میں سے ایک پربھوداس ویشاني کی اسپتال میں موت ہو گئی تھی۔ ان کی حراست کے دوران پٹائی کی گئی تھی۔ متوفی کے بھائی امرت ویشاني نے اس معاملہ میں مسٹر بھٹ سمیت آٹھ پولیس اہلکاروں کو ملزمان بناتے ہوئے معاملہ درج کرایا تھا۔عدالت نے مسٹر بھٹ کو مجرم ٹھہراتے ہوئے آج عمر قید کی سزا سنائی۔

ایک اور ملزم اور اس وقت کے کانسٹیبل پروین جھالا کو بھی عمر قید کی سزا دی گئی۔ واضح رہے کہ اس وقت کے وزیر اعلی نریندر مودی پر گجرات کے 2002 کے فسادات کے دوران فسادیوں کے خلاف پولیس پر نرم رویہ اپنانے کا الزام لگانے والے مسٹر بھٹ کو طویل عرصہ تک ڈیوٹی سے غائب رہنے کی وجہ سے 2011 میں معطل اور اگست 2015 میں برخاست کر دیا گیا تھا۔انہوں نے اس معاملہ میں 12 جون کو سپریم کورٹ میں عرضی دیکر 10 اضافی گواہوں کے بیان لینے کی اپیل کی تھی ، لیکن عدالت نے اسے مسترد کر دیا تھا۔ ریاستی حکومت نے اسے ایسے وقت میں معاملے کو طول دینے کی کوشش قرار دیا تھا جب نچلی عدالت فیصلہ سنانے والی تھی۔
سنجیو بھٹ کے خلاف کیا الزام تھا؟
سنجیو بھٹ کے خلاف قتل کا جو مقدمہ قائم کیا گیا تھا اس کا تعلق 1989 میں پیش آنے والے ایک ایسے واقعے سے ہے جب انہوں نے ہنگاموں کے دوران ڈیڑھ سو افراد کو گرفتار کیا تھا۔ ان میں سے ایک شخص کی رہائی پانے کے بعد ہسپتال میں موت واقع ہو گئی تھی۔
اِس شخص کے لواحقین نے سنجیو اور دیگر پولیس افسروں پر گرفتاری کے دروان تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا تھا اور اُن کے بقول اس وجہ سے اِس شخص کی موت واقع ہوئی تھی۔
بھٹ کو گجرات کی ایک سیشن کورٹ نے مجرم قرار دیا ہے اور اب وہ اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کر سکتے ہیں۔
بھٹ اور ان کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کے خلاف بیان دینے کی وجہ سے انہیں حکومت نشانہ بنانے پر بضد ہے۔
ریاستی حکام بھٹ پر نریندر مودی کے خلاف جھوٹے شواہد پیش کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں۔
آخر پس منظر ہے کیا؟
ریاست گجرات میں ایک ٹرین میں آتشزدگی کے بعد ساٹھ ہندو یاتریوں کے ہلاک ہونے کے واقعے کے بعد مسلمانوں کے خلاف فسادات بھڑک اٹھے تھے۔
گجرات کے قتل عام کو سنہ 1947 میں ملک کے وجود میں آنے کے بعد سے اب تک کے سب سے خوفناک فسادات قرار دیا جاتا ہے۔
ہندو یاتریوں کو لے جانے والی ٹرین میں آگ لگنے کی اصل وجوہات آج تک معلوم نہیں ہو سکی ہیں۔ ہندو گروپوں کا دعویٰ ہے کہ آگ مسلمان مظاہرین نے لگائی تھی جبکہ ایک انکوائری کے مطابق یہ آگ حادثاتی طور پر لگی تھی۔
سنجیو بھٹ ان فسادات کے دوران گجرات میں انٹیلی جنس بیورو کے ایک اعلیٰ پولیس اہلکار تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ اپنے عہدے کی وجہ سے فسادات سے پہلے اور بعد میں ان کی نظر سے بہت سا ایسا خفیہ مواد گزرا جس سے فسادات کے دوران پولیس اور انتظامیہ کے اقدامات اور رویہ واضح ہوتا ہے۔
انھیں سنہ 2011 میں پہلے نوکری سے معطل کر دیا گیا اور پھر سنہ 2015 میں انھیں نوکری سے نکال دیا گیا۔
سنہ 2011 میں سپریم کورٹ نے مودی کو گجرات کے فسادات میں کسی طرح سے ملوث ہونے کے الزامات سے بری کر دیا تھا۔