نرسمہاراؤصدی تقاریب تلنگانہ حکومت کا فیصلہِٗ مسلمانوں کی دل آزاری کاموجب:مولاناپیرنقشبندی

narsimahحیدرآباد5 جولائی(یواین آئی)مولاناپیرسیدشبیرنقشبندی افتخاری صدرکل ہندانجمن پیشوایان مذاہب نے مسلمانوں کی متاع عزیزبابری مسجد کی ایودھیا میں شہادت کے ذمہ دارسابق وزیراعظم پی وی نرسمہاراؤکی صدی تقاریب ایک سال تک عوام کے دس کروڑکی رقم سے منانے کے وزیراعلی تلنگانہ چندرشیکھرراؤکے فیصلہ کوبدبختانہ اورمسلمانوں کی کھلی دل آزاری کاموجب قراردیاہے۔مولاناپیرسیدشبیرنقشبندی نے اپنے ایک صحافتی بیان میں کہاکہ نریندرمودی کی قیادت میں مرکز کی بی جے پی حکومت نے کروڑوں روپئے کے صرفہ سے سردارپٹیل کے مجسمہ کوجس طرح نصب کرتے ہوئے اپنی والہانہ عقیدت کا اظہار کیا ہے۔اسی طرح بی جے پی کے نقش قدم پرعمل کرتے ہوئے ٹی آرایس حکومت کے سربراہ چندرشیکھرراو نے بھی کانگریسی وزیراعظم نرسمہاراؤکی صدی تقاریب نہ صرف ریاست تلنگانہ بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں ایک سال تک منانے کاجواعلان کیااس سے وزیراعلیٰ کے سی آرکاحقیقی چہرہ مسلمانوں پرظاہرہوگیا۔مولاناپیرنقشبندی نے کہاکہ حیرت اس بات پرنہیں ہے کہ بی جے پی نے سردارپٹیل سے محبت ظاہر کی کیوں کہ پٹیل کاکردارمسلمانوں کے خلاف ملک کی تقسیم کے بعدحیدرآبادریاست دکن پرپولیس ایکشن کے ذریعہ سامنے آیا ہے۔ مگر ہندواورمسلمانوں کواپنی دوآنکھ کادعویٰ کرنے والے تلنگانہ کے وزیراعلی کے چندرشیکھرراو کے موقف پر ان کو حیرت ہے۔ یہی نہیں دومرتبہ ریاست میں دو مرتبہ اقتدارحاصل کرنے کے بعد بھی سیکولرازم کے علمبردارہونے کے ساتھ مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کاہمیشہ اظہار وہ کرتے تھے۔بہرحال یہ سیاست ہے‘حالات وہ وقت کے ساتھ ہمیں سیاست دان کاکرداربدلتا ہے لیکن ٹی آرایس کے لیے آئندہ انتخابات فیصلہ کن رہے کیوں کہ ریاست کے مسلمانوں نے اپنی مختلف مسلم تنظیموں کے متحدہ محاذ(یونائٹنڈمسلم فرنٹ) پراعتمادکرتے ہوئے دومرتبہ ٹی آرایس کواقتدارپرفائض کیا۔ مولانا پیرنقشبندی نے آخرمیں کہاکہ ریاست کے مسلمانوں کے لیے ٹی آرایس اورکے سی آرکایہ عمل لمحہ فکر ہے اورفیصلہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں ہوکررہے گا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading