نتن یاہو کو خاموش کرنے کے لیے واشنگٹن سے صرف ایک فون کال کافی ہے: ایرانی وزیرِ خارجہ

پیر کی شام سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کو ’ایک مطلوب جنگی مجرم‘ اور ’دھوکے باز‘ قرار دیا ہے جس نے تقریباً تین دہائیوں سے ’امریکی صدور کو اپنے مقاصد کے لیے جنگوں میں گھسیٹنے کا دھوکہ کیا۔‘

انگریزی میں لکھے گئے اس پیغام میں عباسی عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اسرائیل کی جارحیت بند ہونے تک اپنے میزائل حملے جاری رکھے گا تاہم انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ واقعی سفارتکاری پر یقین رکھتے ہیں تو وہ اسرائیل سے جلد از جلد اپنی جارحیت روکنے کے لیے کہیں۔

عباس عراقچی نے لکھا کہ ’نتن یاہو جیسے شخص کو خاموش کرنے کے لیے صرف واشنگٹن سے ایک فون کال کی ضرورت ہے۔ یہ سفارت کاری کی طرف واپسی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔‘

انھوں نے جنگ میں امریکہ کی شمولیت کے خلاف بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’مذاکرات کے ذریعے حل کے کسی بھی امکان کو ختم کر دے گا اور اس کے علاقائی سلامتی اور عالمی معیشت کے لیے خطرناک، غیر متوقع اور ممکنہ طور پر ناقابل تصور نتائج ہوں گے۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج کینیڈا میں جی سیون سربراہی اجلاس کے موقع پر کہا کہ ایران کو بات کرنی چاہیے اس سے پہلے کہ ’بہت دیر ہو جائے۔‘

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading