ناگپور ، 23 مئی (ایجنسیز)ناگپور کے عازمین حج جنھوں نے ناگپور کے بجائے، ممبئی ایمیگریشن سینٹر کا انتخاب کیا ہے ان کی پریشانی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس ضمن میں سابق کابینی وزیر اور سینئر کانگریس لیڈر ڈاکٹر انیس احمد نے وزیر اعظم آفس اور مرکزی اقلیتی وزیر اسمرتی ایرانی کو عازمین حج کو درپیش مسائل کے حوالے سے ایک محضر پیش کرکے مطالبہ کیا ہےعازمین حج کو انکی روانگی کے وقت سے پہلے تمام ضروری معلومات مہیا کی جانی چاہیے۔ تاکہ وقت رہتے انھیں ضروری انتظامات کرنے میں سہلولت ہو۔
انیس احمد نے وضاحت کرتےہوئے کہا کہ پچھلے سال ناگپور کے جن عازمین حج نے ممبئی ایمیگریشن سینٹرس کے بجائے ناگپور کا انتخاب کیا تھا انہیں ممبئی سے سفر کرنے والوں کے مقابلے میں 66000 روپے زیادہ ادا کرنا پڑے تھے۔ اور اسی کو مدںظر رکھتے ہوئے، اس سال مہاراشٹر اور چتیس گڑھ کے زیادہ سے زیادہ عازمین حج نے ناگپور کے بجائے ممبئی کا انتخاب کیا ہے۔ پچھلے سال تقریباً 3200 نے ناگپور ایمیگریشن سینٹرسکا انتخاب کیا تھا اور اس سال یہ تعداد گھٹ کر تقریباً 2000 تک ہو گئی ہے۔ اور ان میں سے بیشتر نے ممبئی کا انتخاب کیا ہے۔
ان تمام نے ممبئی سے کم کرایہ ہونے کی وجہ سے ناگپور کے بجائے ممبئی ایمیگریشن سینٹرس کا انتخاب کیا ہے۔لیکن اب، ناگپور کے بجائے ممبئی ممبئی ایمیگریشن سینٹرسکا انتخاب کرنے والےعازمین حج کو مشکلات کا سامنا ہے۔اس سال ممبئی ایمیگریشن سینٹرس سے کرایہ میں اضافہ کیا گیا اور ناگپور اور ممبئی کے درمیان فرق اب 21000 روپے تک ہی رہ گیا ہے۔
اس سال ،ممبئی ایمیگریشن سینٹرس کا انتخاب کرنے والے عازمین حج کو ، 21000 روپے کی بچت کے لیے، ممبئی جانے کے لیے ٹکٹوں کی بکنگ میں اضافی رقم خرچ کرنی پڑھ رہی ہے، ممبئی میں قیام و دیگر اخراجات ملاکر انھیں بہت زیادہ رقم ادا کرنا پڑے گا۔ ان عازمین حج نے زیادہ اخراجات سے بچنے کے لیے ناگپور کے بجائے ممبئی کا ائنخاب کیا تھا۔ اب انھیں ناگپور کے مقابلے میں اور زیادہ اخرجات اور ممبئی تک سفر کی مشکلات کا سامنا ہے۔
اگر ایمیگریشن سینٹرسکے انتخاب سے قبل عازمین حج کو یہ معلومات بہم پہنچائی جائے کہ کس ایمیگریشن سینٹرسسے کتنا کرایہ وصول کیا جائے گا نو،ان عازمین حج کو اپنی سہولت اور بجٹ کے لحاظ س ایمیگریشن سینٹرس کا انتخاب کرنے میں سہولت ہوتی۔ لیکن افسوس ایسا نہیں کیا گیا۔
انیس نے مزید کہا کہ عازمین حج کے مسائل میں مذید اضافہ کرنے کے لیے ممبئی ایمبرکیشن سینٹر سے پروازوں کی تاریخیں صرف ایک ہفتہ قبل جاری کی گئی ،جس کی وجہ سے ان عازمین حج کو ریلوے میں کنفرم ٹرین ٹکٹ حاصل کرنا مشکل ہو گیا۔
احمد نے کہا کہ پچھلے سال اس نے آواز اٹھائی تھی اور "پورے مراٹھواڑہ اور ودربھ خطہ کے عازمین حج نے ان حج کیمتئ کی انتظامیہ اور غلط پالیسوں کے خلاف آواز اٹھائی اور مرکز سے تمام سفری مقامات پر یکسانیت لانے کی اپیل کی گئی تھی”۔ انیس نے محضر میں اس بات کی نشاندہی کی کہ 2019 تک جب یو پی اے حکومت برسراقتدار تھی تمام سفری مقامات سے یکساں کرایہ وصول کرنے کی پالیسی پر عمل کیا گیا۔
انیس نے مطالبہ کیا کہ اگلے سال سے ایک پالیسی بنائی جاتی ہے جس کے تحت ، اگر یکساں کرایوں پر عمل نہیں کیا جاتا ہے تو، عازمین حج کو ایمبرکیشن سینٹر کا انتخاب کرنے سے پہلے اس مخصوص امبارکیشن پوائنٹ کے لیے مقرر کردہ چارجز سے آگاہ کیا جانا چاہئے۔
انیس نے ریل کے وزیر راؤ صاب دانوے سے بھی ملاقات کی اور وزارت ریلوے اور ناگپور کے ڈی آر ایم سے مطالبہ کیا کہ ممبئی جانے والے حجاج کرام اور ان کے رشتہ داروں کے رش کو دیکھتے ہوئے اس ہفتے کے لیے ممبئی جانے والی حج اسپیشل ٹرین اور اضافی ٹرینوں میں اضافی کوچ کا اضافہ کیا جائے۔