مہاراشٹر میں بی جے پی کے ہاتھوں سے حکومت تو چلی ہی گئی، اب ناگپور ضلع پریشد الیکشن کے برآمد نتائج میں بھی اس کے لیے بری خبر سامنے آئی ہے۔ کانگریس-این سی پی اتحاد نے بدھ کے روز برآمد ناگپور ضلع پریشد الیکشن میں 58 میں سے 41 سیٹوں پر قبضہ کر بی جے پی کو حیران و ششدر کر کے رکھ دیا ہے۔ ناگپور ضلع پریشد پر قابض بی جے پی کے لیے یہ خسارہ بہت بڑا قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس الیکشن میں پارٹی کے کئی قلعے کو کانگریس-این سی پی منہدم کر کے رکھ دیا۔
Nagpur district having RSS HQs has overwhelmingly voted for Congress party in ZP elections and has unequivocally rejected the BJP. The mood of the nation is certainly changing for the better.
— Mukul Wasnik (@MukulWasnik) January 8, 2020
ناگپور اور پانچ دیگر ضلع پریشد کے لیے انتخابات منگل کے روز ہوئے تھے اور نتیجہ بدھ کے روز برآمد ہوا۔ ناگپور میں بی جے پی نے 15 سیٹیں جب کہ شیوسینا کو ایک سیٹ ملی۔ ایک سیٹ پر آزاد امیدوار کو کامیابی ملی۔ کانگریس کو 31 سیٹوں پر جب کہ این سی پی کو 10 سیٹوں پر کامیابی حاصل ہوئی۔ اس طرح دیکھا جائے تو بی جے پی کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی۔
اس الیکشن میں بی جے پی کے لیے حیرانی کی بات یہ بھی رہی کہ مرکزی وزیر نتن گڈکری کے آبائی گاؤں ناگپور ضلع کے دھاپے واڈا مین ضلع پریشد سیٹ پر بھی بی جے پی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کانگریس امیدوار مہندر ڈونگرے نے دھاپے واڈا سیٹ پر ہوئے الیکشن میں بی جے پی امیدوار ماروتی سوم کور پر فتح حاصل کی۔ انتخابی افسر کے مطابق کانگریس امیدوار مہندر ڈونگرے کو 9444 ووٹ ملے جب کہ بی جے پی امیدوار ماروتی سوم کور کو 5501 ووٹ ملے۔
دوسری طرف پنچایت سمیتی الیکشن میں بھی کانگریس نے سب سے زیادہ سیٹیں حاصل کی ہیں۔ خبروں کے مطابق کانگریس نے 57 سیٹیں، این سی پی نے 21 سیٹیں، بی جے پی نے 25 سیٹیں اور شیو سینا نے 7 سیٹیں جیتی ہیں۔ 4 سیٹوں پر آزاد امیدواروں کو کامیابی ملی ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
