ناندیڑ: مشاعروں پر لاکھوں روپیوں کاخرچ مگر مسلمانوں کے فلاحی و ترقیاتی مسائل پرکوئی توجہ نہیں

ناندیڑ:23ستمبر (ور ق تازہ نیوز) ملک کی سب سے قدیم سیاسی جماعت کانگریس پارٹی ان دنوں اپنے سب سے خراب دور سے گزرہی ہے۔ سال 2014ء کے مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں کسی طرح کانگریس پارٹی نے 41 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی لیکن حالیہ لوک سبھا چناو میں مہاراشٹرسے صرف ایک ہی امیدوار کامیاب ہوسکا ۔ جبکہ کانگریس کے مضبوط امیدوار اور مودی لہر میں بھی ناندیڑ حلقہ لوک سبھا سے کامیابی حاصل کرنے والے اشوک راو چوہان اس مرتبہ لوک سبھا چناو میں شکست فاش ہوگئے جس کانگریس کے حلقہ میں کافی بے چینی وتشویش پائی جاتی ہے۔

ریاستی سطح پر کانگریس کے لیڈران بی جے پی وشیوسینا کا رُخ کررہے ہیں تاکہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرسکے۔ گزشتہ دو اسمبلی انتخابات سے کانگریسی قائدین ناندیڑ سے کسی مسلم کو ایم ایل سی بنانے کا وعدہ و تیقن دیتے آرہے ہیں لیکن آج تک کانگریس کے لیڈران یہ وعدہ پورا نہیں کرسکے ۔ جس سے عام مسلمانوں میں کانگریس کے تئیں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے کیونکہ اُن کا کہنا ہے کہ کانگریس صرف انتخابات میں ووٹ کیلئے استعمال کرتی ہے مگر انھیں سیاسی طور پر مضبوط ومستحکم کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی ۔

مسلمانوں کی ناراضگی ومدنظررکھتے ہوئے اس مرتبہ ناندیڑ شہرکے حلقہ اسمبلی جنوب سے مسلمان کو ٹکٹ دینے پرغور کررہی ہے لیکن آج سیاسی حالات ایسے نہیں کہ مسلم ایم ایل اے وہ بھی کانگریس پارٹی سے منتخب ہوسکے ۔ونچت اگھاڑی اور ایم آئی ایم کی وجہہ سے بھی کانگریس کافی پریشان ہے۔ اسلئے مسلم ووٹرس کو رجھانے اور راغب کرنے کیلئے مشاعرے منعقد کئے جارہے ہیں جس پر اب تک تقریبا 15 تا 20 لاکھ روپے خرچ ہوئے ہیں ۔

عام مسلمانوں کا کہنا ہے کہ کانگریس پارٹی اگر مشاعروں کے بجائے اتنی ہی رقم مسلمانوں کی فلاح وبہبودپر خرچ کرتی تو شاید مسلمانوں میں کانگریس کے تئیں ناراضگی میں کسی حد تک کمی آتی ۔مشاعروں کے بجائے اجتماعی شادیوں کی تقریب یا مسلم بچے بچیوں کو اسکالرشپ دی جاتی تو یقینا اس رقم کا صحیح استعمال ہوسکتاتھا ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading