ناندیڑ۔ ۲۹؍ جولائی ( حیدر علی):ناندیڑ شہرکے کھڑکپورہ علاقہ کے ساکن شیخ متین شیخ فقیر کی دختر کا نکاح سید سعدات ولد سید معین الدین ساکن انصار کالونی کے ساتھ بعد نماز جمعہ مسجد بارہ امام کھڑکپورہ میں انجام پایا۔ انتہائی سادگی کے ساتھ نکاح کی تقریب کا اہتمام کرتے ہوئےکھڑکپورہ اور ناندیڑ شہر میں ایک مثال قائم کی ہے۔کھڑکپورہ کی مسجد بارہ امام میں بعدنماز جمعہ یہ نکاح کی تقریب رکھی گئی تھی۔اس موقع پر مولانا مفتی سلیمان رحمانی نےمحفل نکاح میں شامل حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے اس مثالی شادی کی تعریف کی ۔
انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کے اسلام میں نکاح کو آسان بنانے کے احکام دیےگئے۔ آج امت مسلمہ نےغیروں کی رسم و رواج کو اپنا لیا اور غیر شرعی و بےجا رسومات کے ذریعہ نکاح کو مشکل ترین بنا کر رکھ دیا۔مسلم معاشرہ میں نکاح ایک ایسا ادارہ یا نظام ہے جس سے ہمارا خاندانی نظام مستحکم ہے۔ ہم اس نکاح کے فریضہ کو شریعت کے مطابق انجام دیں۔ شریعت اور دین پر عمل کرنے سے ہی ہم دونوں جہانوں میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔عام سماج میں شادی جس طرح ایک نمائش اور اظہارِ شان و شوکت کا ذریعہ بن گئی ہے وہ کسی کے لیے ہو یا نہ ہو غریب والدین کے لیے ضرور تکلیف دہ ہوتی ہے۔
انہوں نے اپیل کی کہ سماج کو خرافات سے بچانے کے لیے ارباب نظر کو آگے آناچاہیے۔اس نکاح کی مجلس میں شہر کی معروف دینی شخصیت قاری اسعد صمدی ،مولانا عثمان فیصل ، سدی سلیم دیشمکھ، مولانا فرحان ، راحت ایجوکیشن سوسائٹی کے نائب صدر شیخ خالد ،جماعت اسلامی ناندیڑ کے رکن شیخ محمود ،دولہے اور دلہن کے افراد خاندان موجود تھے۔
اس موقع پر قضائت کے فرائض قاضی مفتی سلیمان رحمانی نے انجام دیئے ۔ بعد از نکاح کھجور سے مہمانوں کی مہمان نوازی کی گئی ۔ محفل نکاح میں شامل افراد نے دولہے اور دولہن کو اپنی دعائوں سے نوازا انہیں کامیاب زندگی کی دعائیں دیں اور اپنے اپنے گھروں کو رخصت ہو گئے۔