ناندیڑ، 30مئی:(ورق تازہ نیوز) رواں سال ایل نینو موسمیاتی اثرات کے باعث بارش میں کمی اور وقفے وقفے سے بارش ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں دوبارہ بوائی (دوبارہ تخم ریزی) کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی پس منظر میں محکمہ زراعت نے کسانوں کے لیے خصوصی عوامی بیداری مہم کا آغاز کیا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق جون میں ایل نینو کا اثر ہلکا، جولائی اور اگست میں درمیانی جبکہ ستمبر میں شدید نوعیت کا رہنے کا امکان ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر محکمہ زراعت نے کسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جلد بازی میں بوائی نہ کریں بلکہ کم از کم 80 سے 100 ملی میٹر بارش ہونے کے بعد ہی فصلوں کی بوائی کریں۔
محکمہ زراعت کے معاون زرعی افسران گاؤں کی سطح پر بارش کی مقدار اور زمین میں نمی کا جائزہ لے کر کسانوں کو مناسب وقت پر بوائی کے بارے میں رہنمائی فراہم کریں گے تاکہ دوبارہ بوائی کی نوبت نہ آئے۔بارش کی غیر یقینی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کسانوں کو ارہر (تور) اور سویا بین کی بین الفصلی کاشت اختیار کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ ڈھلوان کے مخالف سمت میں بوائی، چوڑی کیاری اور نالی نظام، بیڈ میکر کے ذریعے کاشت اور کم مدت میں تیار ہونے والی اقسام کے استعمال سے متعلق بھی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔محکمہ زراعت نے سویا بین کے لیے MAUS-725 اور JS-9305 جبکہ تور کے لیے BDN-711 اور گوداوری اقسام کی سفارش کی ہے۔
کسانوں کو نامیاتی کھادوں کے استعمال، بیجوں کی پروسیسنگ، پھندہ فصلوں، پیلے چپکنے والے جال، پرندوں کے بیٹھنے کے اسٹینڈ اور قدرتی کاشتکاری جیسے کم خرچ زرعی طریقوں سے بھی آگاہ کیا جا رہا ہے۔یہ معلومات ناندیڑ ضلع کے تمام دیہات میں صبح و شام گھومنے والے لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے معاون زرعی افسران، اے ٹی ایم اور بی ٹی ایم اہلکاروں کی مدد سے کسانوں تک پہنچائی جا رہی ہیں۔ اس مہم کے ذریعے کسانوں کو براہ راست سوالات کرنے اور اپنی مشکلات کے حل حاصل کرنے میں آسانی ہو رہی ہے۔
دریں اثنا، کسانوں کے لیے Mahavistar 2.0 ایپ بھی مفید ثابت ہو رہی ہے، جس کے ذریعے موسمی مشورے، کیڑوں اور بیماریوں کے انتظام سے متعلق معلومات اور زرعی ماہرین سے براہ راست رابطے کی سہولت دستیاب ہے۔ ضلع میں اس وقت تقریباً ایک لاکھ 33 ہزار کسان اس ایپ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ضلع سپرنٹنڈنٹ زرعی افسر دتّا کمار کلسائیت نے کسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ محکمہ زراعت کی ہدایات کے مطابق ہی بوائی کریں اور دوبارہ بوائی سے بچنے کے لیے مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔