ناندیڑ:ووٹر لسٹ میں ناموں کی میپنگ کا کام جاری، 312 بی ایل او مقرراسکولوں کے کچھ ٹیچرس(بی ایل او) رجوع بہ کار نہیں ہورہے ہیں

ناندیڑ، 7 مارچ (ورقِ تازہ نیوز):الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے ایس آئی آر (Special Intensive Revision) یعنی ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرِ ثانی کا قومی پروگرام جاری ہے۔ اس مہم کے تحت ملک کی مختلف ریاستوں میں ووٹر لسٹ کی جانچ اور اصلاح کا کام کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اب تک ملک کی تقریباً 12 ریاستوں میں یہ عمل مکمل ہو چکا ہے۔مہاراشٹر میں اس پروگرام کے تحت 2002 اور 2025 کی ووٹر لسٹوں کی میپنگ کا عمل سرکاری عملے کے ذریعے شروع کیا گیا ہے۔ اس مرحلے میں 2002 کی ووٹر لسٹ میں شامل ناموں کو 2025 کی فہرست سے جوڑنے (میپنگ) کا کام جاری ہے۔ اس کے بعد اپریل 2026 سے ایس آئی آر کا باضابطہ عمل شروع ہونے والا ہے۔


معلوم ہوا ہے کہ ناندیڑ تعلقہ کے لیے غلام نبی کو متعلقہ افسر مقرر کیا گیا ہے، جن کی تقرری تحصیل نادر کی جانب سے کی گئی ہے۔ اسمبلی حلقہ نادر جنوب کے لیے اس کام کی انجام دہی کے لیے 312 بی ایل او (Booth Level Officers) مقرر کیے گئے ہیں۔تاہم بتایا جاتا ہے کہ ان میں سے کئی بی ایل او اپنی ذمہ داریوں کے لیے حاضر نہیں ہو رہے ہیں۔ غلام نبی نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ ناندیڑ کے ہندی راشٹریہ ہندی دیالےہ، گاڑی پورہ، مدینتہ العلوم ہائی اسکول، مدینہ نگر، دیگلونا، بریگڈئیر عبدالحمید خان اردو اسکول سائی نگر اور اردو پرائمری اسکول چوپالا سمیت دیگر تعلیمی اداروں کے کچھ اساتذہ بی ایل او کی ڈیوٹی کے لیے رجوع بہ کار نہیں ہو رہے ہیں۔ان کی عدم موجودگی کے باعث ووٹروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، کیونکہ * وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور اگر ناموں کی میپنگ بروقت نہ ہوئی تو بہت سے ووٹروں کے نام فہرست سے حذف ہو سکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اب تک ملک کی 12 ریاستوں میں **تقریباً 6 کروڑ نام ووٹر لسٹ سے حذف ہو چکے ہیں۔ اگر کسی شہری کا نام فہرست میں شامل نہ رہا تو وہ نہ صرف ووٹ دینے کے حق سے محروم ہو سکتا ہے بلکہ بعض معاملات میں اس کی شہریت سے متعلق سوالات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔اس سلسلے میں سماجی خدمت انجام دینے والی تنظیموں اور رضاکاروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ آگے آئیں اور عوام کو اس اہم عمل کے بارے میں بیدار کریں تاکہ کوئی بھی ووٹر اپنے حقِ رائے دہی سے محروم نہ رہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading