اس وقت شہرناندیڑ پریشان کن ‘تکلیف دہ پانی کی قلت سے گزررہا ہے ۔یہ وقت قلت کودور کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنا کا ہے ‘نہ کہ ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرانے کا! پانی پر ناندیڑمیں سیاسی کھیل شروع ہوچکا ہے ۔اس کھیل کی تازہ ترین جھلک 24جون کو ڈی پی ساونت کی پریس کانفرنس میں دیکھائی دی ۔کانگریس کے ناندیڑ حلقہ شمال کے ایم ایل اے جناب ڈی پی ساونت نے اعلانیہ طور پر کہا کہ ناندیڑ شہر کی پانی کی قلت کے لئے ضلع انتظامیہ پوری طرح سے ذمہ دار ہے ۔چونکہ ناندیڑ واگھالہ میونسپل کارپوریشن پر کانگریس کاجھنڈا لہرارہا ہے ا س لئے اپوزشن ‘پانی کی قلت کے لئے کانگریس کو ذمہ دار ٹھہرانے کی ساز ش کررہا ہے ۔ ساونت نے آگے یہ بھی کہا کہ شہریان کو پانی کی فراہمی کی تمام ترذمہ داری ضلع انتظامیہ کی ہے ۔ جبکہ میونسپل کارپوریشن پانی کی تقسیم کانظم کرتا ہے ۔
ساونت صاحب کی یہ دلیل بہ ظاہر صد فیصد درست معلوم ہوتی ہے لیکن وہ یہ بات کیوں فراموش کر گئے کہ شہر میں کانگریس پارٹی کے دو عوامی نمائندے ہیں جو ریاستی ودھان سبھا اور ودھان پریشد میں عوام کی نمائندگی بھی کرتے ہیں ۔ ساونت صاحب ناندیڑحلقہ شمال سے کانگریس کے ایم ایل اے اور امرراجورکر ناندیڑ شہر سے ریاستی ودھان پریشد میں کانگریس کے نمائندے ہیں ۔اور اتنا ہی نہیں جب اپریل 2019 میں ناندیڑ شہر کی پانی کی قلت کود ور کرنے کے لئے جو منصوبہ بندی کی جارہی تھی اس وقت کانگریس قائد اشوک راو چوہان ‘ناندیر کے رکن پارلیمان تھے ۔ انھیں اتنے اختیارات حاصل تھے کہ وہ ضلع انتظامیہ کا کان پکڑ کر انھیں منصوبہ بندی کو فی الفور روبہ عمل لانے پر مجبور کرسکتے تھے۔رہی بات میونسپل کارپوریشن کی تو کانگریس کو کارپوریشن میں اتنی اکثریت حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے موافق تجویز کو کارپوریشن کے اجلاس عام میں منطور کرواکر ضلع انتظامیہ پر پانی کی قلت کودور کرنے کےلئے ضروری تدابیر اختیار کرنے اور اقدامات کرنے پردباو دال سکتی تھی ۔
لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ۔18اپریل کو ناندیڑ لوک سبھا کے الیکشن ہونے والے تھے اور اشوک چوہان امیدوار تھے اسلئے کانگریس پارٹی کے سبھی چھوٹے بڑے قائدین اپنے امیدوار کو کامیاب بنانے کےلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے تھے ۔نتیجتاً پانی کی قلت کاسنگین مسئلہ الیکشن تشہیری مہم کی نذر ہوگیا اور 23 مئی کو کانگریسیوں کےلئے یہ بُری خبر آئی کہ اُن کاامیدوار الیکشن ہارگیا ہے ۔اس کے بعد کانگریس پارٹی کے اندر اورباہر کانگریس کے حلقوں میں صف ماتم بچھ گئی تھی ۔ہر کانگریسی مایوس اور غم زدہ تھا اور اس کیفیت سے و ہ آج بھی باہر نکل نہیں پایا ہے ۔
کانگریس قائدین شہری مسائل کی طرف توجہ مرکوز کرنے کی پوزشن میں نہیں تھے ۔ جناب ساونت پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ شہر کی پینے کے پانی کی سنگین صورتحال سے ساری ریاست میں ناندیڑ شہر کی بدنامی ہوئی ہے ۔ جی نہیں صاحب! شہر کی نہیں ‘عوامی نمائدوں اور انکی پارٹیوں کی ہوئی ہے ۔ آج شہر میں کہیں 8 ‘ کہیں 10اور کہیں 12 دن بعد نلوں کے ذیعہ شہریان کوپانی فراہم کیاجارہا ہے ۔ کچھ دن قبل ہنگولی ضلع کے سدیشور ڈیم سے قلیل مقدار میں پانی منگوایاگیا جو وشنوپوری ڈیم میں قطرہ قطرہ جمع ہورہا ہے یہ فیصلہ ضلع کے قائدین اور ضلع انتظامیہ کو مارچ 2019 میں ہ کرناچاہئے تھا ۔شہریان کا کہنا ہے کہ پانی کی قلت کےلئے کانگریس کے رکن اسمبلی ‘کن ودھان پریشد ‘ رکن پارلیمان ‘ میئر اورکارپوریشن کی اسٹینڈئنگ کمیٹی کے چیرمین کے علاوہ ناندیڑ حلقہ جنوب کے شیوسینا ایم ایل اے ذمہ دار ہیں.
شہریان ناندیڑبالخصوص مسلمانوں کو میونسپل کارپوریشن کی اسٹینڈئینگ کمیٹی کے چیرمین فاروق علی خان کا وہ وعدہ جووفا نہیں ہوا‘ آج بھی اچھی طرح یاد ہے ۔ جب انھوں نے رمضان عید سے قبل اعلان کیاتھا کہ عید کے موقع پر نلوں کومسلسل تین دن تک پانی فراہم کیا جائے گا۔ لیکن بڑے افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ عید کے موقع پر مسلسل سات یوم تک شہر کے نل سوکھے پڑے تھے اور مسلمان پانی کےلئے ادھر ادھر بھٹک رہے تھے ۔ تعجب ہے کہ پریس کانفرنس میں جناب ڈی پی ساونت ضلع انتظامیہ پر نزلہ گرا کر خود کواوراپنی پارٹی کو بری ذمہ قرار دینے کی کوشش کررہے ہیں لیکن شہریان خوب سمجھتے ہیں۔کون کتناذمہ دار ہے ؟ چونکہ ریاستی اسمبلی چناو سر پر کھڑے ہیں اور سیاسی پارٹیاں اپنے امیدواروں کے ناموں کاانتخاب کرنے میں مصروف ہوچکی ہیں تو ناندیڑ کانگریس کو یہ خوف ستائے جارہا ہے کہ کہیں پانی کی قلت کا مسئلہ اٹھاکر اپوزشن شہر کے ووٹرس کو کانگریس سے دور نہ کردے ۔ اس لئے کانگریس اپنی کوتاہیوں اور خامیوں پرپر دہ ڈالنے اور ضلع انتظامیہ کو بلی کا بکرا بنانے کی ناکام کوشش کررہی ہے ۔
25جون 2019
محمدتقی