ناندیڑ:4مئی ( ورق تازہ نیوز) ناندیڑ شہر میں درجہ حرارت میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ گرمی کی شدت سے لوگ پریشان ہیں۔ ایسے میں شہریوں کو پینے کے پانی کا بھی شدید مسئلہ درپیش ہے، اس لیے شہری شدید برہمی کا اظہار کر رہے ہیں۔چاردن ہوگئے ہیں اور نلوں کوپانی کی سربراہی بند ہے ۔ شہریان نے اپنے گھروں میں جو بھی ذخیرہ آب کررکھاتھاوہ اب ختم ہوگیاہے اسلئے بیشترعلاقوں میں ٹینکرس کے ذریعہ پانی کی فراہمی کی جارہی ہے مگر یہ پانی ناکافی ہے۔ ناندیڑ شہر میں پانی کی سپلائی میونسپل کارپوریشن کرتی ہے۔
ہر سال گرمیوں میں جب وشنو پوری ڈیم میں پانی کا ذخیرہ کم ہوتا ہے، میونسپلٹی شہر میں آبی ذخائر کے اوقات میں بھی تبدیلی کرتی ہے۔ گزشتہ ایک ماہ سے شہر میں تین دن کے وقفے سے پانی کی فراہمی جاری ہے۔ چونکہ وشنو پوری ڈیم کے پمپ ہاو¿س کی کچھ الیکٹرک موٹریں جل گئی تھیں، اس لیے میونسپلٹی کے فلٹر پلانٹ تک پانی پہنچانا مشکل ہو گیا تھا۔ اس کے علاوہ، بڑی پائپ لائنوں کی خرابی کی وجہ سے، ان کی مرمت کا کام بھی جنگی بنیادوں پر جاری ہے، تین دنوں سے شہر کے شمالی علاقے میں پانی کی ایک بھی ٹینک نہیں پہنچائی گئی ہے. آج شہر کی آبادی تقریباً 5/لاکھ ہے اور روزانہ لاکھوں لیٹر پانی استعمال ہوتا ہے۔
ناندیڑ شہر میں وشنو پوری ڈیم گرمیوں میں پانی کی شدید قلت کا مسئلہ پیدا نہیں کرتا ہے۔ مہاراشٹر میں ایسے بہت سے شہر ہیں جہاں میونسپلٹی کے ذریعہ ہفتے میں صرف ایک دن پانی کا انتظام کیا جاتا ہے۔ ناندیڑ شہر میں پمپ ہاو¿س کی موٹر کے جل جانے کی وجہ سے اچانک تکنیکی خرابی نے شہر میں پانی کی کمی کا سنگین مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔ میونسپل حکام اس کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، شہر کے کئی علاقوں میں گزشتہ دو دنوں سے ٹینکروں کے ذریعے پانی کی سپلائی جاری ہے، لیکن یہ ناکافی ثابت ہو رہی ہے۔ بہت سے لوگوں کو واٹر فلٹر پلانٹس سے پینے کا پانی خریدنا پڑتا ہے۔
شہر کے کئی بورویلوں میں بھی پانی کم ہے۔ پانی کی سطح بھی نیچے جانے کی وجہ سے کئی بورویل سوکھ گئے ہیں۔ لوگوں کو روزمرہ کے استعمال کے لیے بھی پانی نہیں ملتا۔ شہر میں پانی کی قلت کے جاری مسئلے کے باعث شہریوں میں شدید عدم اطمینان کی فضاءپائی جاتی ہے۔ بلدیہ کو کبرا نگر کے خطوط پر ایک اور فلٹر پلانٹ تعمیر کرکے شہر میں موجودہ پانی کے ٹینکوں کو بھرنے کا انتظام کرنا چاہئے۔ بلدیہ کو ہر سال ترقیاتی کاموں کے لیے کروڑوں روپے کا بجٹ ملتا ہے۔
شہر میں تقریباً 350 کروڑ روپے کی لاگت سے ڈرینج لائن کا کام جاری ہے، اسی طرح سڑک کی تعمیر پر بھی کروڑوں روپے خرچ کیے گئے ہیں، لیکن پانی کی فراہمی کے مسائل سنگین ہیں۔فی الحال عوام کو پانی کی فراہمی کابے صبری سے انتظار ہے۔