ناندیڑ: 12 فروری(ورق تازہ نیوز)): ناندیڑ دیہی پولیس نے ایک انتہائی پیچیدہ اور سنسنی خیز معاملے کا پردہ فاش کرتے ہوئے اس شخص کو گرفتار کر لیا ہے جس نے اپنے مخالفین کو سنگین جرم میں ملوث کرنے کے لیے خود پر گولی چلانے کا ڈرامہ رچا تھا۔ پولیس کی چابکدستی اور گہری تفتیش نے چند ہی گھنٹوں میں اس جھوٹی کہانی کا بھانڈا پھوڑ دیا، جس کے بعد فریادی اب خود سلاخوں کے پیچھے پہنچ گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق، ملزم شیخ سمیع عرف ارباز ولد شیخ روف (عمر 25 سال، ساکن اسد مدنی کالونی، ناندیڑ) نے 11 فروری 2026 کو پولیس میں ایک شکایت درج کرائی تھی۔
درخواست میں مدعی نے دعویٰ کیا تھا کہ رات کے تقریباً 2:30 بجے جب وہ اپنی اسکوٹی پر برج کے قریب کھڑا تھا، تب دو اسپلینڈر اور دو پلسر موٹر سائیکلوں پر سوار 8 مسلح افراد وہاں پہنچے۔ سمیع نے سید اویس، شاہ رخ کبوتر اور ابو شوٹر نامی افراد کو شناخت کرنے کا دعویٰ کیا اور بتایا کہ ان کے پاس پستول اور تلواریں تھیں۔
اس کے بقول، سید اویس نے اسے گالی گلوج کی اور جان سے مارنے کی نیت سے فائرنگ کی، جس سے ایک گولی اس کے دائیں ہاتھ کے بازو پر لگی اور دوسری اسکوٹی کی سیٹ پر پیوست ہو گئی۔کیس درج ہونے کے بعد ناندیڑ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ (SP) ابیناش کمار کی ہدایت پر دیہی پولیس نے تفتیش شروع کی۔ دورانِ تفتیش پولیس افسران نے جب فریادی کے بیانات قلمبند کیے تو اس میں تضادات پائے گئے۔ جائے وقوعہ کے معائنے، سائنسی شواہد اور گواہوں کے بیانات سے یہ بات سامنے آئی کہ واقعہ ویسا نہیں تھا جیسا کہ بیان کیا گیا تھا۔انتقام کی آگ اور خود ساختہ حملہ پولیس کی سخت پوچھ گچھ میں سچائی سامنے آگئی۔
ملزم سمیع کو شک تھا کہ مذکورہ افراد نے پولیس کو اس کے پاس ‘گاو?ٹھی پستول ‘ (دیسی کٹہ) ہونے کی اطلاع دی ہے۔ اسی شک کی بنیاد پر ان سے بدلہ لینے اور انہیں جیل بھجوانے کے لیے سمیع نے خطرناک منصوبہ بنایا۔ اس نے خود ہی اپنے پاس موجود دیسی پستول سے اپنے ہاتھ پر فائرنگ کی اور دشمنوں کے نام پولیس کو لکھوائے تاکہ وہ سنگین دفعات کے تحت گرفتار ہو جائیں۔قانونی کارروائی پولیس نے جھوٹی اطلاع دینے، عوامی خادم کو گمراہ کرنے اور دوسروں کی زندگی خطرے میں ڈالنے کے الزام میں شیخ سمیع کو ہی ملزم نامزد کر کے گرفتار کر لیا ہے۔