ناندیڑ:28اکتوبر ( ورقِ تازہ نیوز) جب ضلع میں ہر طرف دیوالی منائی جا رہی تھی، وہیں اسلا پور اور کنڈل واڑی پولیس اسٹیشن حدود میں قتل کے دو واقعات پیش آئے ہیں۔ ان میں سے ایک کو اس کے دوستوں نے قتل کر دیا جب کہ ایک اور واقعے میں بیوی کا جھگڑا رفع دفع کرنے کے لیے آنے والا نوجوان جان کی بازی ہار گیا۔ پولیس کے سینئر افسران نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا ہے۔کنوٹ تعلقہ کے جل دھارا میں پڑوس میں رہنے والا ایک رشتہ دار میاں بیوی کے درمیان تنازعہ رفع دفع کرنے کے لیے آگے آیا۔
لیکن غصے میں آکر ملزم بابا راما جھنگارے نے اس نوجوان بھیگاجی بھاو¿راو برڈے (عمر 22سال) کو اس کے شرمگاہ پر لات مار کر قتل کردیا۔ یہ واقعہ 26 اکتوبر کی رات 9 بجکر 59منٹ پررونما ہوا۔ رمیش بھاو¿ راو¿ برڈے کی شکایت پر اسلا پور پولس اسٹٰشن میں بابا راو¿ جھنگارے کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر رگھوناتھ شیوالے تحقیقات کررہے ہیں۔ سب ڈویژنل پولیس آفیسر وجے ڈونگرے نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور تحقیقات کے لیے مناسب ہدایات دیں۔ مقتول اور اس واقعے کے ملزمان چچا زاد بھائی اور بہنوئی بتائے جاتے ہیں۔
دوسرے واقعے میں بلولی تعلقہ کے کنڈل واڑی پولیس اسٹیشن کے تحت چرلی گاو¿ں میں 26 اکتوبر کو صبح 10 بجے منمت ارونت دھونڈاپورے (عمر 28) کو مہلک ہتھیار سے وار کر کے قتل کر دیا گیا۔ منمتھ دھونڈاپورے کو دو دن قبل گاو¿ں کے پانچ قاتلوں نے جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی۔ متوفی کے والد ارونت دھونڈیبا دھونڈاپورے (عمر 60) ساکن نے پولس اسٹیشن میںا س طرح کی شکایت درج کروائی ہے۔ مزید یہ کہ قاتلوں نے دھونڈاپورے کا قتل کر کے لاش کو چیرلی علاقہ میں بالاصاحب چوہان کے کھیت میں پھینک دیا تاکہ ثبوت کو مٹایا جا سکے۔
واقعہ کی اطلاع ملنے پر ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس وجے کباڈے، سب ڈویژنل پولیس آفیسر وکرانت گائکواڑ، پی ایس آئی وشواجیت کسلے، سب انسپکٹر وشال سوریاونشی، ملازمین شیش راو¿ کدم ‘ادریس بیگ، کملاکر، چوہان وغیرہ نے موقع پر جا کر پنچنامہ کیا۔ مدعی کی شکایت کے مطابق ملزم بالاجی ڈھگے، بنٹی ڈھگے، کرشنا ڈھگے، گووند تاگے، سچن کھنڈگاوے سبھی ساکن چرلی کے خلاف کنڈل واڑی پولس اسٹیشن میں مختلف دفعہ 302، 201، 143، 147، 148، 149 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ دھرم آباد کے سب ڈیویژنل پولیس آفیسر وکرانت گائیکواڑ کی رہنمائی میں اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر وشواجیت کسلے اس واقعہ کی تحقیقات کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پانچوں ملزمان مفرور ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے پولیس ٹیمیں مختلف مقامات پر روانہ کر دی گئی ہیں۔