کنوٹ:26اگست ۔(ورق تازہ نیوز)صدر معلمہ سریکھا راٹھوڑ کاقتل گوکندا میں 23اگست 2018ءکو انکے رہائشی مکان میں ہواتھا ۔اس واقعہ کو ایک سال ہوگیا ہے لیکن ابھی تک اصل قاتل پولس گرفت سے دور ہے۔اس معاملے کی تفتیش سیاسی لیڈران اور راٹھوڑ کے رشتہ داروں کی درخواست پر ایڈیشنل ایس پی نورالحسن کے سپرد کی گئی تھی لیکن دوران تفتیش نورالحسن کاتبادلہ ایوت محل کردیاگیااس لئے معاملے کی تفتیش سردخانے میں پڑگئی ہے ۔
اسلئے معاملے کی تفتیش دوبارہ آئی پی ایس نورالحسن کے دوبارہ سپرد کرنے کامطالبہ سریکھاراٹھوڑ کے دو بھائیوں نے وزیراعلیٰ کوروانہ میمورنڈم میں کیا ہے۔دیگلور تعلقہ کے گاونڈ گاوں کے ساکن پرلہادو دامودر نائیک او رویلاس نائیک ان دونوں بھائیوں نے 21اگست کو وزیراعلیٰ دیویندر پھڑنویس کومیمورنڈم روانہ کیا ہے جس میں کہاگیاکہ 23 اگست 2018ءکو صبح نو تاگیارہ بجے گوکندا میں رہائشی مکان میں سریکھاراٹھوڑکابے رحمی سے قتل کیا گیا تھا۔
لیکن پولس کی تفتیش سست روی سے جاری تھی اسلئے مورچے نکالے گئے اور سماجی دباو کے بعد معاملے کی تفتیش لوکل کرائم برانچ کے سپرد کیاگیا پھر بھی تفتیش غلط سمت میںکی گئی اور چارج شیٹ دائر کی گئی۔اس کے بعد ایم ایل اے ڈاکٹرتشار راٹھوڑ ‘ ایم ایل اے بچو کڈو‘بنجارہ کرانتی دل کے پردیش صدر دیو ی داس راٹھوڑ ‘پرتاپ پاٹل چکھلی کر(ایم پی) نے مل کر وزیراعلیٰ کو میمورنڈم دیااور تفتیش آئی پی ایس نورالحسن ایڈیشنل ایس پی دھرم آباد کے سپرد کی گئی ۔
دریں اثناءنورالحسن کاتبادلہ ہوگیا اسلئے دوبارہ ملزمین کی پشت پناہی کی جارہی ہے اسلئے ابھی تک اصل قاتل پولس گرفت سے دور ہے ۔اسلئے فرض شناس پولس آفیسر نورالحسن کو ہی معاملے کی تفتیش دوبارہ سپرد کی جائے۔جس سے راٹھوڑ خاندان کو انصاف ملے گا۔میمورنڈم کی کاپی ڈائریکٹرجنرل آف پولس ممبئی ‘ آئی جی ناندیڑ ریجن اور ایس پی ناندیڑکوروانہ کیاگیا ہے ۔