ناندیڑ:سوشل میڈیا پر بدنامی کے خوف سے 12ویں کی طالبہ نے پھانسی لے کرخودکشی کرلی، دو لڑکوں کے خلاف کیس درج

ناندیڑ:10اکتوبر ( ورقِ تازہ نیوز) 12ویں سائنس کی طالبہکی سوشل میڈیا پر وائرل تصویر کے باعث خودکشی کا واقعہ 6 اکتوبر کورونماہوا۔ اس سلسلے میں اس کے والد نے لوہا پولیس کو اطلاع دی۔

اور 8اکتوبر کو شکایت درج کروائی اور ایک ہی گاوں کے دو افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔دھاوری تعلقہ لوہاسے صرف دو کلومیٹر مشرق میں ایک گاو¿ں ہے۔ مدعی کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ ان کی دو بیٹیاں اپنی تعلیم کے لیے لوہا میں پریہ درشن نگر میں کرائے کے کمرے میں ساتھ رہتی تھیں۔ ایک لڑکی کی طبعیت ٹھیک نہ ہونے پر والد چھاکتوبر کو لڑکیوں کے روم پر پہنچے ۔

اس وقت دونوں بہنیں کمرے میں موجود تھیں۔ ان میں سے ایک کی طبیعت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے والد اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔ وہاں سے وہ سہ پہر ساڑھے تین بجے کے درمیان روم پر واپس آئے ۔ اس وقت کمرے میں موجود بہن نے دروازہ اندر سے بند کر دیا۔ دروازہ نہ کھلنے پر والد اور بہن نے دروازے کی شگاف سے اندردیکھا تو لڑکی نے خود کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیاتھا۔ دروازہ توڑ کر اسے ہسپتال لے جایا گیا۔ لیکن ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔

یہ واقعہ 6 اکتوبر کو پیش آیا جس کے بعد متوفی لڑکی کے والد نے ہفتہ 8 اکتوبر کو لوہا پولیس میں شکایت درج کرائی۔ جس کی بناءپر ملزمین وجے نام دیو گڈیکر اور یوراج شری رام کالے (دونوں ساکنان دھاوری تعلقہ لوہا) کے خلاف ان کے والد کی شکایت پر خودکشی کے لیے اکسانے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس انسپکٹر سنتوش تامبے کی رہنمائی میں پی ایس آئی غفار شیخ تحقیقات کر رہے ہیں۔
کیا معاملہ تھا…؟
"جب دونوں بہنوں میں سے ایک اکیلی تھی تو گاو¿ں کا وجے نامدیوگاڈیکر اس کے کمرے میں آیا، کچھ کہنے کے بعد اس نے اپنے موبائل فون میں لڑکی کی تصویر کھینچ لی۔ اس کے بعد وہ ہمیشہ اس تصویر کو وائرل کرنے کی دھمکی دیتا رہا۔

اس کے روم پارٹنر یووراج سری رام کالے (پاٹل) نے لڑکی اور ملزم وجے کی تصویر اپنے فیس بک اکاو¿نٹ سے ایک خوبصورت جوڑے کے طور پر وائرل کی تھی، اس تصویر کا سب سے پہلے گاو¿ں کے بہت سے لوگوں میں چرچا ہوا تھا، لڑکی کو اس بارے میں پتہ چلا۔ اس سے وہ بہت خوفزدہ تھی، اس نے بدنامی کے باعث خودکشی کر لی۔اس کے والد نے شکایت میں کہا ہے

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading