ناندیڑ:بارش کی کمی سے کاشتکاروں میں تشویش، گرمی نے مشکلات میں اضافہ کیا

ناندیڑ، 18 جولائی (ورقِ تازہ)ناندیڑ شہر اور ضلع بھر میں رواں خریف سیزن کے دوران بارش کی غیرموجودگی نے زرعی شعبہ کو سخت متاثر کیا ہے۔ جولائی کا مہینہ اختتام کے قریب ہے لیکن اب تک خاطر خواہ بارش نہیں ہوئی، جس کے باعث کسان شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ ہر سال جولائی کے ابتدائی دو ہفتوں میں اچھی بارش ہوا کرتی تھی، لیکن اس سال مانسون کی بے وفائی نے کسانوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق جولائی کے مہینے میں اوسط سے بہت کم بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

گزشتہ ایک ہفتے سے شدید گرمی نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ درجہ حرارت میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے، جس کے سبب زمین کی نمی خشک ہو چکی ہے اور بیج بونے کے بعد اگنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے بارش کی ابتدائی پیش گوئی پر بھروسہ کرتے ہوئے زمین تیار کی اور کچھ علاقوں میں بوائی کا کام بھی مکمل کرلیا، مگر اب بارش کے رکنے سے بیج ضائع ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ کسانوں نے حکومت اور محکمہ زراعت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس غیر یقینی موسمی صورتحال کا جائزہ لے کر ممکنہ امداد اور رہنمائی فراہم کرے۔ادھر شہری علاقوں میں بھی گرمی کی شدت نے معمولات زندگی متاثر کر دیے ہیں۔

بجلی کی طلب میں اضافہ اور پانی کی قلت جیسے مسائل سامنے آ رہے ہیں۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ چند دنوں میں کہیں کہیں ہلکی بارش کی امید ظاہر کی ہے، لیکن خریف فصل کے لیے یہ بارش ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔زرعی ماہرین نے کسانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فی الحال مزید بوائی کے عمل سے گریز کریں اور محکمہ زراعت کی جانب سے جاری کردہ رہنما خطوط پر عمل کریں، تاکہ فصلوں کو ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکے۔اگر اسی طرح بارش کا فقدان جاری رہا تو آنے والے دنوں میں ناندیڑ ضلع میں غذائی بحران اور زرعی معیشت کو بڑا دھچکہ لگ سکتا ہے۔ اس لیے حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری اقدامات کرے اور کسانوں کو سہارا دینے کے لیے ہنگامی پیکیج یا متبادل منصوبہ بندی پر غور کرے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading