"دو بار گلاب دیں گے، تیسری بار براہ راست خالی ہنڈے پھینکے گے”: مرضیہ پٹھان کا انتباہ
تھانے (آفتاب شیخ) پانی کی کمی کے مسئلے پر کئی احتجاجوں کے باوجود تھانے میونسپل کارپوریشن پر ممبرا کے ساتھ مسلسل ناانصافی کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے میونسپل کمشنر سوربھ راؤ کے دفتر کے باہر احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ ممبرا – کوسہ علاقے کے 17 لاکھ لیٹر پانی کی چوری کا الزام لگاتے ہوئے نیشنل کانگریس پارٹی (این سی پی) کی شردچندر پوار پارٹی کی قومی کارگذار صدر، مرضیہ شانو پٹھان نے میونسپل کمشنر کے دفتر کے سامنے مقامی خواتین کے ساتھ احتجاجی دھرنا دیا۔
مرضیہ پٹھان نے کہا، "اب تک ہم نے صرف گلاب دیے ہیں، لیکن ہم مزید دو بار گلاب دیں گے اور پھر خالی ہنڈے پھینکے گے۔”
ممبرا اور کوسہ علاقوں میں کئی دنوں سے پانی کی شدید قلت ہے، جس پر مقامی شہریوں نے متعدد بار احتجاج کیا ہے۔ تاہم، میونسپل کارپوریشن کی جانب سے صرف وعدے کیے جا رہے ہیں اور پانی کی سپلائی غیر معمولی ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کو واٹر مافیا سے پانی خریدنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔
یہ احتجاج مرضیہ پٹھان کی قیادت میں منعقد کیا گیا، جس میں تقریباً 25 سے 30 خواتین بھی شریک ہوئیں۔ احتجاج کے بعد میونسپل کمشنر سوربھ راؤ کے دفتر کے باہر تقریباً آدھے گھنٹے تک دھرنا جاری رکھا گیا۔ محکمہ واٹر سپلائی کے ایگزیکٹیو انجینئر ونود پوار نے مرضیہ پٹھان سے ملاقات کی اور یقین دہانی کرائی کہ پانی کی تقسیم کے نظام کا از سر نو جائزہ آخری مراحل میں ہے اور اس کے مکمل ہونے کے بعد پانی کی فراہمی معمول پر آ جائے گی۔
مرضیہ پٹھان نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "تھانے میونسپل کارپوریشن کی طرف سے بار بار ایسے ہی جوابات مل رہے ہیں۔ ایک طرف روزانہ 17 لاکھ لیٹر پانی چوری ہو رہا ہے۔ کارپوریشن کو چاہیے کہ اس چوری کے پیچھے واٹر مافیا یا وال مین کا ہاتھ تلاش کرنا چاہیے، لیکن یہ نہیں کیا جا رہا۔ جہاں عام شہری پانی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، وہیں پانی مافیا کی لالچ بڑھتی جا رہی ہے۔”
مرضیہ پٹھان نے مزید خبردار کیا کہ اگر پانی کی کمی کا مسئلہ حل نہ ہوا تو وہ میونسپل کارپوریشن کے افسران کو خالی ہنڈے اور مٹکے دیں گی۔
