نوح (میوات): علاقہ میوات (ریاست ہریانہ) میں بڑکلی چوک (نوح) پر سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف جاری غیر معینہ دھرنا منگل کو چھٹے دن میں داخل ہو گیا۔ ’میوات وکاس سبھا‘ اور آر ٹی آئی فورم کی کال پر اس دھرنے کو ختم کرنے کے لئے پولیس نے تمام حربے استعمال کئے لیکن اسے کامیابی نہیں مل سکی۔ بڑکلی چوک کے دھرنے میں دو دن سے خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل ہو رہی ہے اور شاہین باغ کی طرز پر شروع ہوئے اس دھرنے کے مقام کو ’میوات باغ‘ کہہ کر بھی پکارا جانے لگا ہے۔ ادھر میوات (راجستھان) کے امروکا میں بھی میواتیوں نے غیر معینہ مدت کا دھرنا شروع کر دیا گیا ہے۔

نوح کے بڑکلی چوک پر جاری دھرنے میں منگل کے روز ہریانہ کانگریس کے رہنما اور کانگریسی سابق وزیر چودھری آفتاب احمد نے شرکت کی اور مظاہرین سے یگانیت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر آفتاب احمد نے دھرنا میں شامل لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی کانگریس سمیت اپنی جانب سے دھرنا کو مکمل حمایت دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے اہل میوات سے اپیل کی کہ بڑکلی چوک پر جاری دھرنے میں بھاری تعداد میں شامل ہوں اور سی اے اے کے خلاف جاری اس تحریک کو مضبوطی دینے کی اپیل کی۔

افتاب احمد نے کہا کہ یہ دھرنا کسی مخصوص مذہب کا نہیں ہے بلکہ ہندوستان کے جملہ مذاہب کی آواز ہے۔ انہوں نے کہا ’’ایسے حالات میں جب موجودہ حکومت اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب کے بھائی چارے کو روندنے میں لگی ہوئی ہے، احتجاج اور دھرنوں کی ہمیت بہت زیادہ ہے۔ عوام مخالف قوانین کے خلاف سبھی کا متحد ہو کر محاذ آرائی کرنا انتہائی ضروری ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’دھرنوں اور احتجاج سے ایک طرف جہاں جمہوریت کو تقویت حاصل ہوتی ہے، وہیں حکومت وقت کو آئینہ دکھانے کا کام بھی ہوتا ہے۔‘‘
میوات وکاس سبھا کے صدر سلام الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ، ’’بڑکلی چوک کا دھرنا پُر امن اور آئینی طریقے سے جاری ہے لیکن حکومت اس دھرنے کو کسی بھی صورت میں ختم کرانے کے در پے ہے۔
واضح رہے کہ، کل اور آج ضلع پولس کے اعلی حکام دھرنا کو بند کرانے کے لیے جاے دھرنا پر ڈیرا ڈالے رہے ، اور منتظمین کے ساتھ کئ سیشن میں بات چیت کا دور جاری رہا ، جو ایک بار پھر کسی نتیجہ کے بغیر دیر شام ختم ہو گیا،

دوسری جانب راجستھان کے ضلع بھرتپور کی تحصیل کاماں میں امروکا چوک پر بھی غیر معینہ مدت کا دھرنا شروع ہو گیا۔ منگل کے روز اس دھرنے میں سینکڑوں افراد نے ترنگے بینر تلے شرکت کی اور سی اے اے، این آر سی و این پی آر کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔ علاوہ ازیں، آئندہ کل سے مضبوطی کے ساتھ لوگوں کے دھرنا میں شامل ہونے کے لیے لائحہ عمل تیار کیا گیا۔ امروکا دھرنے میں مولانا ارشد قاسمی میل کھیڑلا اور چودھری اکبر، مفتی سلیم قاسمی ساکرس نے شرکت کی۔

دھرنے میں شامل لوگووں کا کہنا تھا کہ بی جے پی کے ذریعے لاے گیے کالے قانون کے خلاف امروکا چوک کا غیر معینہ مدت کا دھرنا تب تک جاری رہے گا، جب تک حکومت ملک کو تقسیم کرنے والے ایجنڈے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ امروکا چوک پر شروع کئے گئے دھرنے میں پولس کی پورے دن تعیناتی رہی اور لوگوں کی آمد رفت شام تک جاری رہی۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو