ارشاد کے خلاف کوئی بھی مجرمانہ مقدمہ درج نہیں ، ارشاد بے قصور تھا ، فرضی مڈبھیڑ کے ذریعے پولیس نے اس کو گولی ماری : اہل خانہ
میرٹھ ۔ 28 نومبر 2018
یوگی حکومت کی پولس ایک بار پھر سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ اتر پردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ کے برسراقتدار آنے کے بعد سے ریاست میں لگاتار ہو رہے پولس انکاؤنٹر پر سوال اٹھتے رہے ہیں۔ تازہ معاملہ میرٹھ کا ہے۔ یہاں جو کچھ پولس نے کیا ہے وہ پولس محکمہ کے لیے گلے کی ہڈی بن گیا ہے اور انتہائی شرم کا پہلو بھی ہے ۔ خبروں کے مطابق میرٹھ دیہات کے سردھنا میں منگل علی الصبح پولس کو گئو اسمگلر کی اطلاع ملی جس کے بعد موقع پر پہنچی پولس نے وہاں موجود مقامی نوجوان ارشاد کو گولی مار دی۔ لیکن گولی مارنے کے بعد جب پولس نے موقع کا معائنہ کیا تو گئو اسمگلنگ کی خبر جھوٹی نکلی۔
ذرائع کے مطابق میرٹھ پولس کو جیسے ہی یہ احساس ہوا کہ مرنے والا نوجوان بے قصور تھا تو ان کے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔ْکبر یہ ہے کہ اس کے بعد پولس انکاؤنٹر کو صحیح ثابت کرنے میں مصروف ہو گئی اور حراست میں لیے گئے ایک بدمعاش کو موقع پر لا کر اس کے پیر میں گولی مار کر زخمی کر دیا۔ پولس کی کوشش یہ ثابت کرنے کی تھی کہ ارشاد اور زخمی بدمعاش ساتھی تھے اور ان کے درمیان ہوئے تصادم میں ایک کی موت ہو گئی جب کہ دوسرا زخمی ہو گیا۔ اتنا ہی نہیں، اس فرضی مڈبھیڑ میں ایک داروغہ کو بھی زخمی بتایا جا رہا ہے ۔
وہیں دوسری جانب انکاؤنٹر میں ہلاک ہونے والے ارشاد کے بھائی جنید کا کہنا ہے ‘ارشاد رات دس بجے تک گھر پر تھا اس کے بعد صبح اچانک سے خبر آئی کہ پولیس کے ذریعہ انکاؤنٹر میں ارشاد کو گولی لگی اور علاج کے دوران اس کی موت ہو گئی’۔
جنید نے مزید کہا کہ میرے بھائی ارشاد پر کوئی بھی مقدمہ درج نہیں ہے اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی ایف آئی آر ہے۔
ارشاد کے والد کا کہنا ہے کہ رات دس بجے تک وہ میرے پاس تھا اس کے بعد میں سو گیا جب صبح چار بجے آنکھ کھلی تو دیکھا کہ وہ میرے پاس نہیں ہے ان کا کہنا ہے کہ ضرور پولیس نے اسے اٹھا لیا ہے اور اس کے بعد فرضی انکاؤنٹر کرکے اسے گولی مار کر ہلاک کردیا۔
ارشاد کے والد کا کہنا ہے کہ ارشاد کے خلاف اور پورے خاندان والوں کے خلاف کوئی بھی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔