ابھی امت مسلمہ ولی رحمانی علیہ الرحمہ کے غم سے جانبر بھی نا ہوئی تھی کہ دنیائے علم و ادب کے لیے اک اور خبر انتہائی سوزناک ثابت ہوئی کہ مہاراشٹر کے شہر پونے کی ایک عظیم شخصیت، ملک و بیرون ملک کے علمی اور ادبی حلقوں میں معروف و مشہور، ماہر تعلیم، مصنف، ادیب، محقق، مؤرخ، جغرافیہ داں اور عصری و اسلامی علوم کے ماہر جناب پروفیسر انیس چشتی صاحب کل یعنی 5اپریل 2021 بروز پیر شام پانچ بجے دورۂ قلب پڑنے کی وجہ سے اس دارفانی سے رخصت ہو گئے۔ ان کی پیدائش 6 فروری 1943 کو ہوئی تھی اور وہ 79 سال کے تھے۔
انیس چشتی صاحب کو میں نے قریب سے دیکھا تھا۔ وہ ندوۃ العلماء کے مجلس انتظامیہ اور مجلس شوریٰ کے اہم رکن تھے۔ اور ہر سال باضابطہ وہ شوری کی میٹنگ میں تشریف لاتے اور اس موقع پر ان کے زبردست محاضرات کا سلسلہ مسلسل تین دنوں تک جاری رہتا۔ مجھے آج بھی وہ منظر یاد ہے کہ جب انیس چشتی صاحب کے محاضرے کا اعلان ہوتا تو طلباء ندوہ ان کے محاضرے میں شامل ہونے کے لیے بے چین ہوجاتے۔ ان کا محاضرہ کافی طویل ہوتا لہذا محاضرے کا پروگرام ہمیشہ عشاء بعد ہی رکھا جاتا۔
اور طلباء عشاء کی نماز کے بعد ہال کی طرف ایسے دوڑ لگاتے گویا سیم و زر تقسیم کرنے کا اعلان ہوا ہو۔ اور جب محاضرہ شروع ہوتا ایسا محسوس ہوتا کہ علم کا دھارا بہ رہا ہے، انداز اس قدر نرالا اور مسحور کن کہ دو ڈھائی گھنٹے تک جاری رہنے کے باوجود محاضرے کے اختتام پر طلباء کے نشاط میں کوئی کمی نا آتی بلکہ طلباء یہ کہنے پر مجبور ہوتے کہ
پیتا ہوں جتنی اتنی ہی بڑھتی ہے تشنگی
ساقی نے جیسے پیاس ملادی شراب میں
آپ کو ندوہ اور اہل ندوہ سے پے پناہ محبت تھی۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی رح سے عقیدت و ارادت تھی، اور ان کے خاص حلقے میں آپ شامل تھے۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی کی صحبت میں ان کے آخری ایام تک رہے اور ملکی اور غیر ملکی اسفار میں ان کے ساتھ شامل رہے۔ اپنے سفرناموں میں انہوں نے بارہا اس کا تذکرہ کیا ہے۔ ندوے کے آخری سال (2017ء) فکر اسلامی کی کلاس میں ان کا خصوصی محاضرہ جاری تھا اسی دوران میں نے کاغذ پر ایک سوال لکھ کر پوچھا تھا کہ "مدارس کے طلباء اقتصادی اعتبار سے کس طرح مضبوط ہوسکتے ہیں؟” انھوں نے سوال کو پڑھا اور کہا کہ یہ ایک طویل بحث ہے ان شاء اللہ کل کا مکمل محاضرہ اسی عنوان پر ہوگا اور دوسرے دن اسی عنوان پر ان کا مکمل محاضرہ ہواتھا جس سے ہم طلباء مستفید ہوئے۔
جناب انیس چشتی صاحب باذوق انسان تھے اور ان کی تحریر میں علم و ادب کا امتزاج نظر آتا تھا آپ کو بیک وقت اردو، مراٹھی، انگریزی، اور ہندی زبانوں میں تحریر و تقریر پر یکساں عبور ہونے کے ساتھ ساتھ عربی اور فارسی پر بھی اچھی قدرت حاصل تھی۔
آپ تاریخی، دعوتی، علمی، ادبی، فکری اور تعلیمی و دیگر موضوعات پر 42 سے زائد کتابوں کے مصنف، مؤلف اور ترجمہ نگار ہیں۔ آپ کی چند اہم تصانیف یہ ہیں "تعلیم شناسی”، "مسلم خون سے بھیگی سرحد”، "جنگ آزادی اور مسلمان”، "وائٹ ہاؤز کے آس پاس”، "بدلتی دنیا اور پیاسا تعلیمی عمل”، "ہدایات برائے اساتذہ”، "عصری تربیتی کورس برائے فارغین مدارس”، "اقبال کا ادبی اور تہذیبی ورثہ”، "وادئی نیل میں بیس دن” آخر الذکر کتاب کچھ عرصہ پہلے قسطوں میں اردو کے مشہور اخبار "انقلاب” میں سلسلہ وار مضامین کی صورت میں شائع ہوئی تھی۔ آپ کی مراٹھی تصانیف میں "محمد پیغمبر”، "اسلاما چے وچار ویبھو”، "رمضان پریچے” اور "آدھونک یگات اسلام جیون شیلی”ہے۔ انگریزی کتابوں میں Committees and Commissions in Pre-Independence India (1836-1947) ہے یہ کتاب چار جلدوں پر مشتمل ہے
آپ کی کتاب "اقبال کا ادبی اور تہذیبی ورثہ” کی بنیاد پر مہاراشٹر اسٹیٹ نے ‘اردو ساہتیہ اکادمی ایوارڈ” اور اسی طرح "دلت مراٹھی ادب شناسی” کی بنیاد پر یوپی اسٹیٹ نے اردو ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا۔______ "تعلیم شناسی” آپ کی مقبول ترین کتابوں میں سے ایک ہے جس کا عربی ترجمہ بھی غالباً بیروت سے شائع ہوچکاہے______ آپ کو امریکن لائبریری آف کانگریس کی اعزازی ریڈر شپ رکنیت حاصل تھی اور اتنا ہی نہیں بلکہ اہمیت و افادیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس لائیبریری میں آپ کی تصنیفات کو شامل کیا گیا______ آپ کے تحقیقی مقالات ملک اور بیرون ملک کے بین الاقوامی تحقیقی جریدوں میں شائع ہوتے رہے ہیں_____ تحریک پیام انسانیت کے آپ جنرل سکریٹری، رابطہ ادب اسلامی کے رکن، اور ندوۃ العلماء کے مجلسِ انتظامیہو شوری کے ممبر تھے۔ آپ مولانا ابوالحسن علی ندوی کی ایماء پر تحریک پیام انسانیت سے جڑے تھے اور مفسر قرآن مولانا عبد الکریم پاریکھ و مولانا اسحاق جلیس کے ساتھ پورے ملک کا دورہ کیا اور انسانیت کے پیغام کو عام کیا۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اس سلسلے میں انہوں نے مراٹھی اور اردو زبان میں کئی کتابیں تصنیف کیں اور چونکہ وہ IAS, IPS, افسران کو اور فوج کے عہدے داران کو حکومت کی جانب سے مختلف موضوعات پر توسیعی لیکچر دینے کے لیے مقرر تھے، بر ایں بنا پولیس کے اعلیٰ عہدے داران اور سیاسی حلقوں پر اچھا اثر رکھتے تھے اور آپ نے ہمیشہ اپنے اس اثر و رسوخ کو پیام انسانیت کے لیے کام میں لایا۔ ان باتوں کا تذکرہ وہ خود ندوے کے محاضرات میں ہم طلباء کے سامنے کیا کرتے تھے اور اس تعلق کی اہمیت و افادیت کو بھی واضح کرتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ ہمیشہ "تھری پیز”(PPP) یعنی پولیس، پبلک اور پریس پر اچھی گرفت رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ مجھے لگتا ہے کہ ندوہ سے جن کا ماقبل میں کوئی تعلق نا رہا ہو اس کے باوجود وہ مولانا ابوالحسن علی ندوی کے خاص حلقے میں شامل رہے اور ندوے کے شوری و مجلسِ انتظامیہ کے رکن بنے اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ نے آپ کے اندر موجود جوہر اور امت مسلمہ کے لیےدھڑکتے دل کو محسوس کرلیا تھا اور ان کے جوہر کو ملت اسلامیہ کے لیے مزید مفید بنانے کے لیے مکمل میدان اور موقع فراہم کیا۔ اور آپ کی گوناگوں صلاحیتوں اور فعالیت کی بنیاد پر آپ کو تحریک پیام انسانیت کے جنرل سیکرٹری کے طور پر منتخب کیا۔ اس سلسلے میں انیس چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں جس کا اعتراف نا صرف یہ کہ اہل علم نے کیا بلکہ حکومت بھی آپ کی قومی یک جہتی خدمات سے متأثر ہوئی اور آپ کو قومی یک جہتی خدمات کی بنیاد پر 1989 میں جونئیر چیمبر آف کامرس اور 2004 میں منی بھائی دیسائی ایوارڈ سے سرفراز کیا۔
آپ حکومت مہاراشٹر کی کئی اعلیٰ سطحی تعلیمی کمیٹیوں پر کام کرچکے ہیں۔ مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ آف سکینڈری اینڈ ہائیر سیکنڈری ایجوکیشن کے رکن رہ چکے ہیں اور اس بورڈ نے آپ کو اساتذہ کی تربیت کی ذمہ داری داری سونپی تھی۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن نے آپ کو اساتذہ کے لیے درکار تدریسی مواد تیار کرنے کی ذمہ داری بھی سونپی تھی۔ اسی طرح آپ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان میں بھی خدمات انجام دے چکے تھے۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ساتھ مل کر کمپیوٹر کے لیے اردو نستعلیق فاؤنٹ کی تیاری میں آپ نے اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح آپ نے قومی کونسل کے ذریعے اردو خطاطی کے دوسالہ نصاب کے لیے جاری کردہ ایک جامع کتاب بھی تالیف کی ہے اور یہ کتاب ملک بھر میں بطور نصاب پڑھائی جاتی ہے۔ وہ ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ کے اس قول کو مد نظر رکھتے ہوئے اردو کے فروغ کے لیے کوشاں رہتے کہ "جو ہندوستان میں اردو کی خدمت کرتا ہے وہ دراصل اسلام کی خدمت کرتاہے”۔ وہ کئی یونیورسٹیز مثلأ آئی این آئی کالج آف ملٹری انجینئرنگ میں اسلامیات کے لکچرر، بھارتی ودیا پیٹھ میں بطور تجارتی آداب اور اقدار و اخلاقیات کے لکچرر، داراالامور سرنگا پٹنم میں عصری علوم کے لکچرر، اور اکیڈمک آف ڈیولپمنٹ ایڈمنسٹریشن میں بطور گیسٹ پروفیسر لکچر دیتے اور وزیٹنگ پروفیسر کی حیثیت سے جاتے تھے۔
آپ ملک و بیرون ملک اپنی علمی فکری اور تعلیمی فعالیت کی بنیاد پر معروف و مشہور ہیں۔ متعدد قومی اور بین الاقوامی کانفرنسوں سے آپ نے خطاب کیا ہے۔
اس سلسلے میں آپ نے چالیس سے زائد ملکوں کا سفر کیا جن میں سعودی عرب، فلسطین، شام، اردن، متحدہ عرب امارات، ترکی، مصر، فرانس، جرمنی، کناڈا، امریکہ، اٹلی، ویٹیکن سٹی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
آپ کی علمی، ادبی اور تعلیمی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے اب تک تیس سے زائد قومی و بین الاقوامی اعزازات اور ایوارڈز آپ کو حاصل ہوئے ہیں۔جن میں سے کچھ کا تذکرہ اوپر ہوا ہے اور چند یہ ہیں۔
اعزازی آرمی کمانڈرس کمینڈیشن کارڈ1999، امریکن فیڈریشن آف ٹیچرز کی اعزازی رکنیت، امریکن لائبریری آف کانگریس میں آپ کی تصنیفات کی شمولیت، مولانا ابوالکلام آزاد ایوارڈ برائے خطابت و ادبی خدمات2008، وشو بھارتی ایوارڈ برائے تدوین مراٹھی کتب1989، مراٹھی کتاب "رمضان چے اپاسنا” پر ریاستی سطح کے دو ایوارڈز، اردو ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ دو بار ایک بار یوپی سے اور ایک بار مہاراشٹر سے جس کا تذکرہ اوپر آچکا ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے اعزازات اور ایوارڈز ہیں جن تمام کا شمار یہاں باعث تطویل ہے۔
مگر آہ کہ اتنی بڑی علمی شخصیت اب ہمارے درمیان نہیں رہی۔ ان کے جانے سے علمی و ادبی حلقوں میں غم کا ماحول ہے، اور اک خلا پیدا ہوگیا ہے۔ ہندوستان کی اہم علمی وادبی شخصیات نے ان کی رحلت پر گہرے رنجو غم کا اظہار کیا ہے۔ وہ موجودہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولانا محمد رابع حسنی ندوی سے بھی بہت قریب تھے اور سابق معتمد تعلیم مولانا واضح رشید ندوی رحمہ اللہ سے گہرے روابط تھے۔ ندوہ و اہل ندوہ سے خصوصی اورو گہرے ربط وضبط ہونے کی وجہ سے ندوۃ العلماء کے اساتذہ ذمّہ داران اور طلباء کے اندر غم کا ماحول ہے۔ اللہ ان کے محبین کو صبر جمیل عطا فرمائےاور ان کی ہر طرح کی خدمات حسنات کو قبول فرمائے۔
موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں جانے کے لیے