شرد پوار کی قیادت میں پارٹی رہنماؤں کے ساتھ میٹنگ شروع ہو گئی ہے۔ اس میٹنگ میں این سی پی کے کل 54 ارکان اسمبلی میں سے 42 موجود ہیں، جبکہ 12 ارکان اسمبلی اس سے غیر حاضر ہیں۔
میٹنگ میں شیو سینا کے رہنما ملند نرویلکر اور ایک ناتھ شندے دو این سی پی ارکان اسمبلی سنجے بنسوڈ اور بالا صاحب پاٹل کو لے کر ممبئےی کے وائی بی چوہان سینٹر پہنچے ہیں۔ ان دونوں ارکان اسمبلی کے حوالہ سے کہا جا رہا تھا کہ یہ این سی پی لیڈر اجیت پوار کے خیمہ میں شامل ہیں۔
Maharashtra: 42 NCP MLAs are present in the meeting with NCP Chief Sharad Pawar, at YB Chavan Centre in Mumbai; Visuals from outside YB Chavan Centre pic.twitter.com/hhRDKmTOY0
— ANI (@ANI) November 23, 2019
Mumbai: Shiv Sena leaders Milind Narvekar and Eknath Shinde brought with them 2 NCP MLAs Sanjay Bansod and Babasaheb Patil at YB Chavan Center from the Mumbai airport. The two NCP MLAs are said to be with NCP leader Ajit Pawar. https://t.co/UAzUctBtBf
— ANI (@ANI) November 23, 2019
شیو سینا کے بعد این سی پی اور کانگریس بھی پہنچی سپریم کورٹ
مہاراشٹر میں بی جے پی کی حکومت سازی کے خلاف شیو سینا کے بعد این سی پی اور کانگریس نے بھی سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق تینوں جماعتوں کی عرضی کچھ ہی دیر میں داخل کی جائے گی اور اس پر سپریم کورٹ آج رات کو ہی سماعت کرے گا۔
فڑنویس کی حکومت سازی کے خلاف شیو سینا سپریم کورٹ پہنچی
مہاراشٹر میں غیر متوقع طور پر ہفتہ کے روز گونر بھگت سنگھ کوشیاری کی جانب سے دیوندر فڑنویس کو وزیر اعلیٰ اور اجیت پوار کو نائب وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف دلوانے کے خلاف شیو سینا نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔
Shiv Sena: Shiv Sena has filed a writ petition in the Supreme Court against Devendra Fadnavis and Ajit Pawar taking oath as CM and Deputy CM of Maharashtra respectively. #Maharashtra pic.twitter.com/AoyIwrp48T
— ANI (@ANI) November 23, 2019
این سی پی کے صرف 5 ارکان اسمبلی شرد پوار کی میٹنگ سے غیر حاضر
مہاراشٹر کی سیاست میں عظیم ہلچل جاری ہے۔ صبح جو این سی پی ارکان اسمبلی اجیت پوار کے ساتھ نظر آ رہے تھے اور بی جے پی کے وزیر اعلیٰ فڑنویس کی حلف برداری تقریب میں بھی شامل ہوئے تھے ان میں سے بھی کچھ ارکان اسمبلی شرد پوار کی میٹنگ میں پہنچ گئے ہیں۔ یہاں تک کہ مراٹھواڑا میں کافی اثر و رسوخ رکھنے والے دھننجے منڈے بھی میٹنگ میں پہنچے ہیں۔
اب محض 5 ارکان اسمبلی ایسے ہیں جو شرد پوار کی میٹنگ سے غیر حاضر ہیں۔
Mumbai: Nationalist Congress Party (NCP) leader Dhananjay Munde arrives at YV Chavan Centre for NCP meeting. pic.twitter.com/7LIDLNJLf7
— ANI (@ANI) November 23, 2019
مودی ہے تو ممکن ہے: فڑنویس
وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لینے کے بعد پہلی بار بی جے پی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ممبئی میں دیویندر فڑنویس نے کہا کہ ’مودی ہے تو ممکن ہے۔‘ چہرے پر مسکراہٹ لیے ہوئے دیویندر فڑنویس نے کہا کہ یہ حکومت پانچ سالوں تک چلے گی اور عوام کی فلاح کے لیے کام کرے گی۔
فڑنویس کی حمایت کرنے والے 9 اراکین اسمبلی چارٹرڈ طیارہ سے دہلی بھیجے گئے
میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ فڑنویس کی حمایت کرنے والے 9 اراکین اسمبلی کو چارٹرڈ طیارہ سے دہلی بھیج دیا گیا ہے۔ نیوز پورٹل نیوز18 کی خبروں کے مطابق 9 اراکین اسمبلی کا نام ان کے پاس موجود ہے جنھیں دہلی بھیجا گیا ہے۔ جو سیاسی ماحول مہاراشٹر میں چل رہا ہے، اس کے پیش نظر بتایا جاتا ہے کہ ان اراکین اسمبلی کو دہلی اس لیے بھیج دیا گیا تاکہ وہ دوبارہ شرد پوار کے پاس نہ چلے جائیں۔
شیوسینا اراکین اسمبلی کو کامیابی فڑنویس کی وجہ سے ملی: روی شنکر پرساد
مہاراشٹر میں بی جے پی قانون ساز پارٹی لیڈر دیویندر فڑنویس کے ذریعہ وزیر اعلیٰ عہدہ کی حلف برداری کے بعد پہلی بار بی جے پی کی طرف سے پریس کانفرنس کیا گیا اور سیاسی ماحول پر رد عمل بھی ظاہر کیا گیا۔ مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے پریس کانفرنس کے دوران واضح لفظوں میں کہا کہ پوری انتخابی تشہیر کے دوران دیویندر فڑنویس کا نام بطور وزیر اعلیٰ پیش کیا گیا تھا۔ بی جے پی کی طاقت اور بطور وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کے چہرہ نے ہی شیوسینا امیدوار کو کامیاب بنایا۔ ایسی صورت میں شیوسینا نے ’مہایوتی‘ سے الگ ہو کر غلط کیا تھا اور عوام کو مایوسی ہوئی تھی۔
Union Minister Ravi Shankar Prasad: Throughout the election campaign, Devendra Fadnavis’ name was projected as the Maharashtra Chief Minister. Support base of BJP & the prospect of Devendra Fadnavis becoming CM, played a crucial role in success of Shiv Sena candidates. pic.twitter.com/WDoVJoHap5
— ANI (@ANI) November 23, 2019
میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ کرکٹ اور سیاست میں کچھ بھی ہو سکتا ہے: نتن گڈکری
مرکزی وزیر اور بی جے پی کے سینئر لیڈر نتن گڈکری نے مہاراشٹر کے نئے ماحول میں پہلی بار اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ کرکٹ اور سیاست میں کچھ بھی ہو سکتا ہے، اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ میرا کیا مطلب تھا۔‘‘
Union Minister & BJP leader, Nitin Gadkari on #MaharashtraGovtFormation: I had earlier said anything can happen in cricket and politics, now you can understand what I meant. pic.twitter.com/Lv9Gc65tKQ
— ANI (@ANI) November 23, 2019
کانگریس-این سی پی-شیوسینا تینوں ایک ساتھ، ہم بی جے پی کو شکست دیں گے: احمد پٹیل
مہاراشٹر کے سیاسی ڈرامے کے بعد کانگریس کے سینئر لیڈر احمد پٹیل کا بڑا بیان سامنے آیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آئین کی خلاف ورزی کی گئی، بینڈ باجہ اور بارات کے بغیر ہی وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ نے حلف لے لیا۔ کہیں نہ کہیں کچھ غلط ضرور ہوا ہے۔ سب کچھ چھپا کر کیا گیا۔ بے شرمی کی انتہا کو پار کیا گیا۔ صبح ہوئے ’حادثہ‘ کی مذمت کے لیے الفاظ نہیں۔
Ahmed Patel, Congress: We will fight this on both fronts, political and legal. #Maharashtra https://t.co/77euYvgmTa pic.twitter.com/55mFDAPLh7
— ANI (@ANI) November 23, 2019
اجیت پوار کے ساتھ جانے والے 8 میں سے 5 اراکین اسمبلی واپس آ گئے: سنجے راؤت
شیوسینا لیڈر سنجے راؤت نے میڈیا سے کہا ہے کہ اجیت پوار دھوکہ سے این سی پی اراکین اسمبلی کو حلف برداری تقریب میں لے گئے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ جو 8 این سی پی اراکین اسمبلی حلف برداری تقریب میں گئے تھے ان میں سے 5 واپس شرد پوار کے پاس آ گئے ہیں اور اگر بی جے پی میں ہمت ہے تو وہ اسمبلی میں اکثریت ثابت کر کے دکھائے۔
Sanjay Raut, Shiv Sena: Of the 8 MLAs who had gone with Ajit Pawar, 5 of them have come back. They were lied to, put in a car, and sort of kidnapped. Agar himmat hai to vidhaan sabha mein majority saabit kar ke dikhaye. pic.twitter.com/hDOKRad9kL
— ANI (@ANI) November 23, 2019
کانگریس-این سی پی-شیوسینا اب بھی ایک ساتھ کھڑے ہیں: شرد پوار
شرد پوار نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب بھی کانگریس، این سی پی اور شیوسینا ایک ساتھ کھڑے ہیں اور اجیت پوار کے ذریعہ کیے گئے دھوکے سے اس اتحاد پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ شرد پوار کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس وقت اجیت پوار کے ساتھ 11-10 اراکین اسمبلی ہیں اور کچھ اراکین اسمبلی جو ان کے ساتھ تھے، وہ اب ہمارے پاس آ چکے ہیں۔ اس طرح دیکھا جائے تو بی جے پی کو اکثریت ثابت کرنے میں مشکل پیش آئے گی۔
اجیت پوار کے ساتھ فڑنویس کی حلف برداری تقریب میں گئے این سی پی اراکین اسمبلی نے چھوڑا ان کا ساتھ
اس وقت این سی پی سربراہ شرد پوار اور شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے کے ذریعہ مشترکہ پریس کانفرنس ممبئی کے وائی بی چوہان آڈیٹوریم میں جاری ہے۔ اس پریس کانفرنس میں اجیت پوار کے ساتھ دیویندر فڑنویس کی حلف برداری تقریب میں شامل ہوئے این سی پی لیڈران بھی موجود ہیں اور انھوں نے کہا کہ وہ شرد پوار کے ساتھ ہیں۔ اجیت پوار کا ساتھ چھوڑنے والے این سی پی اراکین اسمبلی کا کہنا ہے کہ انھیں دھوکے سے گورنر ہاؤس لے جایا گیا تھا اور وہ بی جے پی کی حمایت نہیں کریں گے۔
شرد پوار نے پریس کانفرنس میں کہا کہ جب اکثریت ثابت کرنے کی باری آئے گی تو فڑنویس کی حکومت ناکام ہو جائے گی کیونکہ این سی پی اراکین اسمبلی بی جے پی کی حمایت نہیں کریں گے۔ شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے نے بھی پریس کانفرنس سے کہا کہ بی جے پی نے دھوکہ کرتے ہوئے حکومت بنائی ہے اور یہ ناکام ثابت ہوں گے۔
اجیت پوار کو این سی پی قانون ساز پارٹی لیڈر عہدہ سے برطرف کیا گیا!
میڈیا ذرائع کے مطابق این سی پی قانون ساز پارٹی کے لیڈر اجیت پوار کو اس عہدہ سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ فیصلہ این سی پی سربراہ شرد پوار اور پارٹی لیڈروں کی ایک میٹنگ کے دوران لیا گیا۔ اجیت پوار پر این سی پی نے الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے پارٹی کو دھوکہ دیتے ہوئے بی جے پی کو حمایت دینے کا اعلان کیا جس سے ریاست میں بی جے پی کی حکومت بن گئی۔
مشترکہ پریس کانفرنس سے قبل کانگریس-شیوسینا-این سی پی لیڈروں کی میٹنگ شروع
ممبئی کے وائی بی چوہان آڈیٹوریم میں کانگریس، شیوسینا اور این سی پی کے سرکردہ لیڈران پہنچ چکے ہیں اور میٹنگ شروع ہو چکی ہے۔ کانگریس لیڈران ملکارجن کھڑگے اور وینو گوپال راؤ تو یہاں موجود ہیں ہی، این سی پی سربراہ شرد پوار اور سپریا سولے بھی موجود ہیں۔ شیوسینا کی جانب سے ادھو ٹھاکرے خود اس میٹنگ میں شریک ہونے پہنچے ہیں اور این سی پی لیڈر و شرد پوار کی بیٹی سپریا سولے نے بطور خاص باہر آ کر ان کا استقبال کیا اور آڈیٹوریم کے اندر لے گئیں۔
Mumbai: Slogans raised in support of Sharad Pawar and against Ajit Pawar by a group of NCP workers outside YB Chavan Centre where Congress-NCP-Shiv Sena will address the media shortly. #Maharashtra pic.twitter.com/d8SdQhWVPO
— ANI (@ANI) November 23, 2019
دھوکے سے بنائی گئی حکومت کو اسمبلی میں شکست ملے گی: نواب ملک
این سی پی کے قومی ترجمان نواب ملک نے مہاراشٹر میں بی جے پی کی حکومت سازی کو دھوکے کی حکومت قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ این سی پی کے سبھی اراکین اسمبلی ہمارے ساتھ ہیں اور اسمبلی میں اس حکومت کو شکست ملے گی۔ نواب ملک کا یہ بھی کہنا ہے کہ این سی پی کے سبھی اراکین اسمبلی کی حاضری دیکھنے کے مقصد سے لیے گئے دستخط کو اجیت پوار نے اراکین اسمبلی کی حمایت کہتے ہوئے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کے حوالے کیا ہے، اور یہ دھوکہ ہے۔
Nawab Malik,NCP:Ye dhoke se banayi gayi sarkar hai aur ye vidhan sabha ke floor pe haaregi, saare vidhayak hamare saath hain. #Maharashtra pic.twitter.com/TISmQENzTo
— ANI (@ANI) November 23, 2019
کانگریس نے ممبئی پارٹی دفتر میں بلائی ہنگامی میٹنگ
مہاراشٹر میں سیاسی ہنگامے کے درمیان کانگریس پارٹی نے اپنے لیڈروں کی ایک میٹنگ ممبئی واقع پارٹی دفتر میں طلب کی ہے۔ اس میٹنگ میں سینئر کانگریس لیڈر ملکارجن کھڑگے اور کے سی وینوگوپال بھی موجود رہیں گے۔
An urgent meeting has been called by Congress at party office in Mumbai. Senior party leaders Mallikarjun Kharge and KC Venugopal to be present. #MaharashtraGovtFormation pic.twitter.com/rOVGbQeXIc
— ANI (@ANI) November 23, 2019
این سی پی سربراہ شرد پوار اور شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے 12.30 بجے کریں گے پریس کانفرنس
مہاراشٹر میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے سبھی حیران ہیں، اور راتوں رات اجیت پوار کے ذریعہ بی جے پی کو حمایت دینے کے فیصلہ نے این سی پی سربراہ شرد پوار کو زبردست جھٹکا دیا ہے۔ شیوسینا لیڈران بھی اجیت پوار کے نائب وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لینے سے حیرت میں ہیں۔ اب این سی پی سربراہ شرد پوار اور شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے 12.30 بجے میڈیا سے روبرو ہوں گے تاکہ چیزوں کو واضح کیا جا سکے اور آگے کیا کچھ ہو سکتا ہے، اس پر بھی اپنا رد عمل دیں گے۔
NCP Chief Sharad Pawar and Shiv Sena Chief Uddhav Thackeray to address the media at 12.30 pm today pic.twitter.com/XgYBWKRVHx
— ANI (@ANI) November 23, 2019
170 اراکین اسمبلی ہمارے ساتھ، ہم اپنی اکثریت ثابت کریں گے: بی جے پی لیڈر گریش مہاجن
بی جے پی لیڈر گریش مہاجن نے میڈیا سے کہا ہے کہ ’’ہم اپنی اکثریت ثابت کریں گے کیونکہ ہمیں 170 اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’اجیت پوار نے گورنر کو جو خط دیا ہے اس میں این سی پی اراکین اسمبلی کی حمایت کا دعویٰ دیا گیا ہے اور چونکہ اجیت پوار این سی پی قانون ساز پارٹی کے لیڈر ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ سبھی این سی پی اراکین اسمبلی کی حمایت بی جے پی کو مل رہی ہے۔‘‘
Girish Mahajan,BJP: We will prove our majority with support of over 170 MLAs. Ajit Pawar has given a letter to Governor about support of his MLAs and as he is legislative party leader of NCP, which means all NCP MLAs have supported us
#Maharashtra pic.twitter.com/shVRc0HmWy— ANI (@ANI) November 23, 2019
اجیت پوار نے مہاراشٹر کی عوام سے دھوکہ کیا، شرد پوار کا اس سے کوئی تعلق نہیں: سنجے راؤت
سنجے راؤت نے مہاراشٹر میں نئے سیاسی ماحول کے پیش نظر ایک پریس کانفرنس کیا جس میں انھوں نے کہا کہ اجیت پوار نے بی جے پی سے ہاتھ ملا کر شرد پوار، ریاستی عوام اور چھترپتی شیواجی مہاراج کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ سنجے راؤت نے کہا کہ رات تک اجیت پوار میٹنگ میں ہمارے ساتھ تھے اور پھر صبح جا کر نائب وزیر اعلیٰ کا حلف لے لیا، انھوں نے پاپ کیا ہے۔
سنجے راؤت نے مہاراشٹر کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری پر بھی انگلی اٹھائی اور کہا کہ میں جانتا ہوں کہ وہ آر ایس ایس سے آئے ہیں اور امید تھی کہ وہ اخلاقیات کا دامن نہیں چھوڑیں گے، لیکن رات کی تاریکی میں جس طرح کے کھیل کو انھوں نے فروغ دیا، وہ ناقابل یقین ہے۔
Sanjay Raut, Shiv Sena: Sharad Pawar saheb has nothing to do with this, Ajit Pawar has backstabbed the people of Maharashtra pic.twitter.com/L5HtyMtiWf
— ANI (@ANI) November 23, 2019
مہاراشٹر میں سیاسی اتھل پتھل کے درمیان شرد پوار نے کہا ’بی جے پی کی حمایت کا فیصلہ میرا نہیں‘
ایک طرف این سی پی لیڈر اجیت پوار نے نائب وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لے لیا ہے اور دوسری طرف شرد پوار نے ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ بی جے پی کے ساتھ اتحاد کر کے حکومت بنانے کا فیصلہ ان کا نہیں ہے۔ شرد پوار نے یہ بھی کہا کہ یہ پوری طرح سے اجیت پوار کا فیصلہ ہے اور اس طرح کے فیصلے کی ہم قطعی حمایت نہیں کرتے۔
Ajit Pawar’s decision to support the BJP to form the Maharashtra Government is his personal decision and not that of the Nationalist Congress Party (NCP).
We place on record that we do not support or endorse this decision of his.— Sharad Pawar (@PawarSpeaks) November 23, 2019
پی ایم مودی اور امت شاہ نے دیویندر فڑنویس کو دی مبارکباد
مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ کا حلف لینے کے بعد دیویندر فڑنویس کو مبارکبادیاں ملنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ پی ایم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے فڑنویس کے وزیر اعلیٰ بننے پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ وہ عوام کے حق میں کام کریں گے۔ پی ایم نریندر مودی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’دیویندر فڑنویس جی اور اجیت پوار جی کو بالترتیب وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لینے پر مبارکباد۔ مجھے یقین ہے کہ وہ مہاراشٹر کے روشن مستقبل کے لیے لگن سے کام کریں گے۔‘‘ امت شاہ نے بھی فڑنویس کے ساتھ ساتھ این سی پی لیڈر اجیت پوار کو نائب وزیر اعلیٰ بننے پر مبارکباد دی۔
PM Modi: Congratulations to Devendra Fadnavis ji and Ajit Pawar ji on taking oath as the CM and Deputy CM of Maharashtra respectively. I am confident they will work diligently for the bright future of Maharashtra. pic.twitter.com/ZLFR3D0Jeh
— ANI (@ANI) November 23, 2019
BJP President & Union Home Minister, Amit Shah congratulates Devendra Fadnavis & Ajit Pawar on taking oath as Maharashtra Chief Minister and Deputy Chief Minister, respectively. pic.twitter.com/DBX3gBdPOU
— ANI (@ANI) November 23, 2019
مہاراشٹر کی سیاست نے لی کروٹ، فڑنویس پھر بنے وزیر اعلیٰ
مہاراشٹر کی سیاست نے ایک زبردست کروٹ اس وقت لی جب بی جے پی لیڈر دیویندر فڑنویس نے ایک بار پھر وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لے لیا۔ این سی پی لیڈر اجیت پوار نے بطور نائب وزیر اعلیٰ حلف لیا۔ اس نئے سیاسی ماحول نے شیوسینا کو زبردست جھٹکا پہنچایا ہے جو جمعہ تک پورے پانچ سال کے لیے اپنا وزیر اعلیٰ بنانے کا دعویٰ کر رہی تھی۔
Devendra Fadnavis after taking oath as Maharashtra CM again: People had given us a clear mandate, but Shiv Sena tried to ally with other parties after results, as a result President’s rule was imposed. Maharashtra needed a stable govt not a ‘khichdi’ govt. pic.twitter.com/6Zmf9J9qKc
— ANI (@ANI) November 23, 2019
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-