مہاراشٹر: اسکولوں میں بچوں کو جنسی ہراسانی سے بچاؤ کی بیداری مہم تیز

*طلبہ کی حفاظت پر مہاراشٹر حکومت کا آن لائن سروے*

*اسکولوں میں بچوں کو جنسی ہراسانی سے بچاؤ کی بیداری مہم تیز*

از قلم: رضوی سلیم شہزاد، مالیگاؤں
موبائل: 9130142313

مہاراشٹر اسٹیٹ اسکول ایجوکیشن اینڈ اسپورٹس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے رواں تعلیمی سال میں کیے گئے اسکولی سروے کے نتائج نے واضح کیا ہے کہ طلبہ و طالبات کی حفاظت اور تحفظ کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ سروے میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ بیشتر اسکولوں نے طلبہ کی جسمانی، ذہنی اور آن لائن حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ سروے کے مطابق اسکولوں میں اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کو POCSO ایکٹ 2012 کے تحت بچوں کو جنسی جرائم سے بچانے سے متعلق قوانین سے واقف کرایا گیا ہے۔ اسی طرح طلبہ کو گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کی تربیت دی جا رہی ہے تاکہ وہ بروقت کسی بھی غلط رویے کی نشاندہی کر سکیں۔
اس ضمن میں شکایت درج کرنے کے نئے راستے جیسے چائلڈ ہیلپ لائن نمبر 1098 سے رابطہ، پاکسو ای-باکس اور چِراگ ایپ کے علاوہ اسکولوں میں نصب شکایت بکس کے ذریعہ اپنی بات یا شکایات رکھ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی اسکولی سطح پر سکھی ساوتری کمیٹی، خواتین شکایت کمیٹی، اور اسٹوڈنٹس سیفٹی اینڈ سیکیورٹی کمیٹی کو بھی فعال کیا جارہا ہے۔ ان کمیٹیوں کی ماہانہ میٹنگس اور رپورٹس سے شفافیت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

*اسکولوں میں جدید حفاظتی انتظامات*
سروے کے مطابق اسکول کے احاطے میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جانا اور ان کی فوٹیج کا باقاعدہ معائنہ کئے جانے کو یقینی بنانے کی بات کہی گئی ہے۔ اسی طرح غیر مجاز افراد کے اسکولی احاطے، بلڈنگ یا برآمدے میں غیر ضروری داخلے پر مکمل پابندی عائد کرنا، طلبہ کی روزانہ حاضری کے سخت نظام کے تحت والدین کو غیر حاضری پر فوری طور پر مطلع کیا جانا شامل ہے۔لڑکیوں کے لیے سینیٹری نیپکن مشین کی تنصیب، نمائندہ طالبات کے ذریعہ بیت الخلاء کی نگرانی جیسے اقدامات شروع کرنے کی بابت اسکولوں کو ہدایات دی جارہی ہیں۔

*انٹرنیٹ اور آن لائن دنیا میں طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنانا:*
چونکہ طلبہ کی بڑی تعداد اب انٹرنیٹ استعمال کرتی ہے اس لیے والدین اور طلبہ کو آن لائن فشنگ، پرائیویسی اور سوشل میڈیا خطرات سے آگاہ کرنے کے لیے بیداری سیشن منعقد کرنے کی ہدایات اسکولوں کو دی جارہی ہیں۔ اس کے لیے متعلقہ پولس اسٹیشن سے سائبر ایکسپرٹ کو مدعو کرکے طلباء و طالبات کو اس بات سے آگاہ کرایا جانا ہے کہ وہ کسی اجنبی کے ساتھ اپنی معلومات یا تصاویر شیئر نہ کریں۔

*طلبہ کی سیفٹی اور سیکیورٹی سے متعلق والدین اور اساتذہ کی مشترکہ ذمہ داری:*
ماہرین کے مطابق بچوں کی خاموشی سب سے بڑا اشارہ ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے رویے میں آنے والی تبدیلیوں پر نظر رکھیں اور انہیں یہ اعتماد دیں کہ وہ بلا جھجک اپنی بات والدین یا استاد سے کہہ سکیں۔ اساتذہ پر بھی لازم ہے کہ وہ محض پڑھانے تک محدود نہ رہیں بلکہ بچوں کے محافظ اور رہنما بھی بنیں۔
یہ حقیقت خوش آئند ہے کہ ریاستی حکومت نے بچوں کی حفاظت کو صرف رسمی کاروائی نہیں رہنے دیا بلکہ اس کو عملی اقدامات میں ڈھالا ہے۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ بیداری کی یہ مہم صرف اسکولوں تک محدود نہ رہے بلکہ والدین، سماجی اداروں اور میڈیا کو بھی اس میں شراکت دار بنایا جائے۔ چائلڈ ابیوز ایک سنگین مسئلہ ہے جس سے صرف قانون نہیں بلکہ پورا سماج مل کر ہی نمٹ سکتا ہے۔ آج ضرورت ہے کہ بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ہر شخص اپنی ذمہ داری محسوس کرے تاکہ آنے والی نسلیں خوف کے بجائے اعتماد کے ساتھ تعلیم و تربیت حاصل کر سکیں۔
***

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading