مہاراشٹرا قانون ساز اسمبلی میں این آر سی اور این پی آر کے خلاف تجویز منظور کی جائے۔ مسلم ایجوکیشن فورم کا مطالبہ

پوسد: مرکزی حکومت کے منظور کردہ سی اے اے اور این پی آر کے کالے قوانین کے خلاف ملک بھر میں دھرنا تحریک اور احتجاج جاری ہے۔ اس قانون کو فوری طور پر منسوخ کرنے اور آئین کے آرٹیکل 14 ، 15 اور 21 میں مداخلت نہ کرنے کی اس تجویز کو مسلم ایجوکیشن فورم نے مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں اس تجویز کو متعارف کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔ مرکزی حکومت نے واضح کیا ہے کہ یکم مئی سے این آر سی پر عمل درآمد ہونہونیوالا ہے، اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ مہاراشٹرا قانون ساز اسمبلی میں این آر سی ، سی اے اے اور این پی آر کے خلاف قرارداد لائیں۔ مہاراشٹرا کی مہاویکاس اگاڑی حکومت اس طرح کی تجویز کو اسمبلی میں منظور کرنے کے لئے این آر سی اور این پی آر پر عمل درآمد نہیں کرے گی۔مسلم ایجوکیشن فورم پرساد کی جانب سے مہاراشٹرا کے وزیر اعلی ادھوھو ٹھاکرے کو ایک یادداشت سب ڈویژنل آفیسر ڈاکٹر ونکات راٹھود کے ذریعہ پیش کی گئی۔ اس موقع پر عادل مرزا ، فیروز خان ایم آئی ایم رہنما ، عبد الرحمن چوان ، ڈاکٹر انصار شیخ ، سنتوش امبھور ے ، محمد عظیم ، سورج ہڈسے اور دیگر شہری موجود تھے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading