اورنگ آباد:(پریس ریلیز ) تحفظ دین میڈیا سروسیس کے انچارج کی اطلاع کے مطابق علاقہ ¿ مراٹھواڑہ کے مشہور عالم دین مولانا محفوظ الرحمن فاروقی ممبر آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ ، مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم، مہاراشٹرا) کے جنرل سیکریٹری اور سلیکشن کمیٹی کے ممبر رہے اور اس وقت سے مجلس کے ساتھ تھے جب شہر اورنگ آباد میں مجلس کا دفتر بھی قائم نہیں ہو ا تھا اور شروعاتی دور میں جب کارپوریشن ، اورنگ آباد کے ٹکٹ تقسیم کئے گئے تھے وہ مولانا موصوف کے ہی مکان ایم آر ایف ٹاور ، قاضی واڑہ ، بھڑکل گیٹ سے تقسیم کئے گئے تھے اور الحمدللہ اس وقت مجلس کے 26کارپوریٹر س منتخب ہوئے تھے۔
مولانا محفوظ الرحمن فاروقی مذہبی، تعلیمی ، سماجی اورسوشل میڈیا میں تحفظ دین میڈیا، ایم آر ایف ٹی وی لائیو، کڈس میسج (اسلامی کارٹون برائے اطفال) یوٹیوب چینل کے ذریعہ قومی و ملی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ملک اور بیرون ممالک میں ان کی خدمات کے اعتراف میں کئی ایوارڈس سے انہیں نوازا جا چکا ہے۔ مجلس اتحاد المسلمین کی کمیٹیوں کو مضبوط و مستحکم کرنے کے لئے مولانا موصوف نے کور کمیٹی کے ہمراہ پورے مہاراشٹرا کے دورے کئے۔
ہائی کمان اویسی برادران کا مولانا موصوف کو اعتماد حاصل تھا اور بیرسٹر اسد الدین اویسی اپنے ہمراہ کئی جلسوں میں ان کو لے جاتے ، ان کی تقاریر و بیانات سے مجلس کے لئے خوب فضا ہموار ہوتی رہی۔ مولانا موصوف کے مریدین و معتقدین کا ایک بڑا حلقہ ہے اور ان کی بے لوث و مخلصانہ قربانیوں کا اعتراف ذمہ دارانِ مجلس کو بھی ہے۔جس کا اظہار کئی اجلاس میں قائدین کرچکے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا موصوف نے فرمایا تھا کہ میری زندگی میں سیاست کا شعبہ خالی تھا اس لئے میں نے ملک و ملت کی خدمت کے لئے سیاسی زندگی میں حصہ لیا اور سیاست کو دعوتِ دین کا میدان بنا کر حتی الامکان اس میں اپنا وقت لگایا لیکن اپنی مذہبی سرگرمیوں میں مزید ذمہ داریوں کی وجہ سے اکابر علماءسے مشورہ کے بعد سرگرم سیاست سے علاحدگی کا فیصلہ کیا۔
لیکن میرا نوجوان علماءکو مشورہ ہے کہ وہ سیاست پر نظر رکھے ، اس کو سمجھے اور اس میں سرگرم حصہ لیں اور اس کو دعوتِ دین کا میدان بھی بنائے ۔ اور ذمہ داران کے لئے یہ پیغام ہے کہ علماءکے لئے سیاست کے دروازے کھولیں، ان کو سیاسی اعتبارسے مضبوط کریں، ان کی سیاست کے میدان میں رہنمائی کریں اور دینی معاملات میں ان سے رہنمائی حاصل کریں تاکہ دین اور سیاست ایک دوسرے سے جدا نہ ہو۔ جیسا کہ علامہ اقبال ؒ نے فرمایا تھا ”جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی“۔ اس لئے ایک دوسرے کے ساتھ کو اپنے لئے لازم و ملزوم تصور کریں۔ ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ میرا یہ احساس ہے کہ مجلس میں گروپ بازی کا خاتمہ ہو ، ضلعی و تعلقہ سطح پر کمیٹیوں کا مزید مضبوط کیا جائے۔
اگر ایسا ہوجائے اور صحیح قومی و ملی جذبہ سے خدمت ہوتو ان شاءاللہ مسلمانوں کا مستقبل اس ملک میں روشن و تابناک ہوگا۔ آخر میں مولانا محفوظ الرحمن فاروقی صاحب نے فرمایا کہ مجھے کوئی سیاسی طمع نہیں تھی اور نہ ہی الیکشن وغیرہ میں میری اولاد یا کسی رشتہ دار کو کھڑا کرنا تھا ۔ میں بیرسٹر اسد الدین اویسی صاحب و اکبر الدین اویسی صاحب کااور مقامی ذمہ داران ِ مجلس کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے مجھے عزت دی ، میرا اکرام کیا اور اتنے اہم عہدہ پر خدمت کا موقع عنایت فرمایا ۔ فجز اللہ خیر الجزائ۔