مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال
علمی و دینی دنیا غم و اندوہ میں ڈوب گئی
لکھنؤ: برصغیر کے جلیل القدر عالمِ دین، محدث، مفکر، مصنف اور شعلہ بیان خطیب مولانا سید سلمان حسینی ندوی انتقال کر گئے۔ ان کے وصال کی خبر نے ملک و بیرونِ ملک کے علمی، دینی اور سماجی حلقوں کو رنج و الم میں مبتلا کر دیا۔
نمازِ جنازہ
نمازِ جنازہ آج نمازِ عصر کے بعد جامعہ سید احمد شہید، کٹولی، ملیح آباد میں ادا کی جائے گی اور وہیں تدفین عمل میں آئے گی۔
خاندانی پس منظر
مولانا سید سلمان حسینی ندوی 1954ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد مولانا سید محمد طاہر حسینی مظفر نگر کے منصورپور کے ایک معزز سادات خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ علامہ سید ابوالحسن علی حسنی ندوی کے بھتیجے اور ڈاکٹر سید عبدالعلی حسنی کے نواسے تھے۔
تعلیم و تربیت
ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے دارالعلوم ندوۃ العلماء میں داخلہ لیا، قرآن کریم حفظ کیا اور 1974ء میں عالمیت جبکہ 1976ء میں فضیلت کی سند حاصل کی۔ بعد ازاں سعودی عرب کی جامعہ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ سے 1980ء میں حدیث میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔
تدریسی خدمات
سعودی عرب سے واپسی کے بعد آپ دارالعلوم ندوۃ العلماء میں حدیث کے استاد مقرر ہوئے اور تقریباً چار دہائیوں تک درسِ حدیث دیا۔ آپ کے ہزاروں شاگرد آج دنیا بھر میں دینی و علمی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
دعوتی و سماجی خدمات
1974ء میں آپ نے جمعیت شباب اسلام قائم کی۔ 1985ء میں جامعہ سید احمد شہید کی بنیاد رکھی۔ آپ کی نگرانی میں متعدد مدارس، مکاتب، کلیۃ حفصہ للبنات، حراء اسکولز اور ڈاکٹر عبدالعلی یونانی میڈیکل کالج و ہسپتال قائم ہوئے۔
علمی و تحقیقی تصانیف
مولانا ندوی نے عربی اور اردو میں متعدد کتابیں تصنیف کیں۔ حدیث کے فن میں ان کی اہم کتابیں لمحۃ عن علم الجرح والتعدیل، دروس من الحدیث النبوی الشریف اور المقدمۃ فی اصول الحدیث ہیں۔ اردو میں ان کی معروف تصانیف میں ہمارا نصابِ تعلیم کیا ہو