پاناما کے پرچم بردار جہاز پر حملے کے جواب میں ایران پر تازہ ترین امریکی کارروائی کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس خطے میں امریکہ کے آٹھ فوجی اڈوں پر میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملے کیے ہیں۔
ایران کے سرکاری میڈیا ادارے پریس ٹی وی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اپنی کارروائیوں کو ایرانی سرزمین کے خلاف ’امریکی جارحیت‘ کی ردِعمل میں ’فیصلہ کن جواب‘ قرار دیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ اس کی بحریہ اور فضائیہ نے مشترکہ طور پر یہ کارروائیاں اتوار کو مقامی وقت کے مطابق رات 2:00 بجے سے 3:00 بجے کے درمیان کی ہیں، جس میں آٹھ ’اہم امریکی فوجی تنصیبات‘ کو نشانہ بنایا گیا، جن میں ’کویت میں علی السالم ایئر بیس‘ اور ’بحرین میں سلمان پورٹ پر قائم امریکی پانچویں بحری بیڑے کا ہیڈکوارٹر‘ شامل ہیں۔
خیال رہے اس سے قبل امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ہفتے کے روز پاناما کے پرچم بردار ایک جہاز پر ڈرون حملے کے بعد ایران پر نئے حملے کرنے کا اعلان کیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق اس نے تجارتی جہاز رانی کے خلاف ’مسلسل جارحیت‘ کے جواب میں ایران بھر میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں فوجی سازوسامان، مواصلاتی نظام، فضائی دفاعی تنصیبات اور ڈرون ذخیرہ کرنے کے مراکز شامل تھے۔
تاہم پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والا بحری ٹریفک ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے مطابق ایران کی ذمہ داری کے دائرے میں آتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’آئندہ سے، جو جہاز بھی (ایرانی شرائط کی) خلاف ورزی کرتے ہوئے پائے گئے، ان کے ساتھ پہلے سے زیادہ سختی سے نمٹا جائے گا۔‘