وارانسی: 29 اپریل(یواین آئی) نامزدگی کے آخری مرحلے میں اپنے حیران کن فیصلے کے تحت سماج وادی پارٹی نے وارانسی پارلیمانی حلقے سے پارٹی کی امیدوار شالنی یادو کو تبدیل کر کے نامزدگی کے آخری مرحلے میں بی ایس ایف سے برخواست جوان تیز بہارد یادو کو وزیر اعظم مودی کے خلاف انتخابی میدان میں اتارنے کا اعلان کیا ۔
کانگریس کی جانب سے پرینکا گاندھی کو انتخابی میدان میں اتارنے کے انکار کے بعد سماجوادی پارٹی نے بی ایس پی جوان کو انتخابی میدان میں اتار کر وارانسی میں انتخاب کو جوان بمقابلہ چوکیدار بنادیا ہے۔پیر کو سماج وادی امیدوار کے طور پر پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے بعد میڈ یا سے بات کرتےہوئے تیز بہادر یادو نے کہا سماج وادی پارٹی کے ایجنڈے ہمارے ایجنڈے ہیں۔اور اب میں نے سماج وادی پارٹی سے پرچہ نامزدگی داخل کیا ہے۔ ہم لوگ کسانوں اور نوجواں کی لڑائی لڑرہےہیں۔تیز بہار دو یادو کو 2017 میں بی ایس ایف کو پروسے جارہے کھانے کی خراب کوالٹی کے بارے میں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے پادا ش میں بی ایس ایف سے برخاست کردیا گیا تھا۔ اب وہ وارانسی سے وزیر اعظم مودی کے کے خلاف ایس پی۔ بی ایس پی کے مشترکہ امیدوار ہوں گے۔
تیز بہادر نے نامزدگی کے آخری مرحلےمیں ایس پی کے نشان پر وارانسی سے پرچہ نامزدگی داخل کیا ہے۔سماجوادی پارٹی ذرائع کے مطابق پارٹی کی پہلے سے اعلان کرد ہ امیدوار وپیر کو ہی پرچہ نامزدگی داخل کرنے والی شالنی یادو نے اپنا پرچہ نامزدگی واپس لے لیا ہے۔ جبکہ وزیر اعظم نریندرمودی نے پہلے ہی 26 اپریل کو اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا تھا۔کسی دیگر بی جے پی وزیر کے بجائے وزیر اعظم کے خلاف الیکشن لڑنے کے فیصلے کے بارے میں پوچھے جانے پر بی ایس پی جوان کا کہنا تھا ’’ جنوری کے مہینے میں میرا بیٹانہیں رہا۔ اب میرے پاس کھونے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ میرے پاس صرف ایک راستہ ہے کہ میں پارلیمنٹ پہنچوں اور سیکورٹی اہلکار کی آواز بلند کروں۔اسی وجہ سے میں نے وزیر اعظم مودی کے خلاف انتخابی میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔