مودی حکومت کے بجٹ نے شیئر مارکیٹ کا آج دیوالہ نکال کر رکھ دیا۔ ہفتہ کے روز مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن کے ذریعہ لوک سبھا میں بجٹ پیش کیے جانے سے پہلے شیئر بازار کبھی نیچے اور کبھی اوپر ڈولتا رہا، لیکن بجٹ تقریر شروع ہونے کے نصف گھنٹے بعد شیئر بازار کا جو حال ہوا، ویسا اب تک کم ہی دیکھنے کو ملا ہے۔ شیئر بازار بند ہونے تک سنسیکس 987.96 پوائنٹ گراوٹ کے ساتھ 39735.53 پر بند ہوا جب کہ نفٹی 300.25 پوائنٹ نیچے گر کر 11661.85 پر بند ہوا۔ جمعہ کے روز سنسیکس 40723.49 اور نفٹی 11962.10 پر بند ہوا تھا۔
Sensex closes at 39,735.53, down by 987.96 points. pic.twitter.com/2Jbo5fMGlr
— ANI (@ANI) February 1, 2020
آج شیئر بازار صبح میں 279 پوائنٹ کی گراوٹ کے بعد سنبھلا تھا اور پھر 182 پوائنٹ اوپر پہنچ کر 40905.78 پوائنٹ تک پہنچ گیا تھا۔ اسی طرح نفٹی میں بھی 55 پوائنٹ کا عروج دیکھنے کو ملا تھا اور یہ 12017.35 پوائنٹ تک پہنچ گیا تھا۔ لیکن جیسے جیسے نرملا سیتارمن کی بجٹ تقریر آگے بڑھتی رہی، شیئر بازار بھی زوال پذیر ہوتا چلا گیا۔
قابل ذکر ہے کہ عموماً ہفتہ کے روز ٹریڈنگ نہیں ہوتی لیکن شیئر بازار سے جڑے لوگوں کی اپیل پر ہفتہ کے روز ٹریڈنگ کا فیصلہ لیا گیا۔ ایسا اس لیے کیا گیا کیونکہ بجٹ کے اعلانات سے بازار میں کافی اتار چڑھاؤ ہوتا ہے۔ 2015 میں بھی ہفتہ کے روز بجٹ پیش کیا گیا تھا اور اس دن بھی ٹریڈنگ کھولنے کا فیصلہ لیا گیا تھا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ مودی حکومت کے گزشتہ 6 مکمل بجٹ پر غور کیا جائے تو 4 مواقع ایسے رہے جس میں شیئر بازار کو خسارہ اٹھانا پڑا۔ گزشتہ سال 5 جولائی کو بجٹ پیش کیا گیا تھا۔ اس دن سنیکس 1 فیصد اور نفٹی 1.14 فیصد خسارے میں رہا تھا۔ گزشتہ بجٹ میں وزیر مالیات نرملا سیتارمن نے سپر رِچ پر سرچارج بڑھانے کا اعلان کیا تھا۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بھی اس کے دائرے میں مانا گیا۔ اس سے بازار میں گراوٹ بڑھ گئی تھی۔ حالانکہ حکومت نے کچھ دنوں کے بعد سرچارج بڑھانے کا فیصلہ واپس لے لیا تھا۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو