جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی ریاست کا درجہ ختم کرنے کے بعد سے حکومت کی حراست میں نظربند ریاست کی سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی نے جمعہ کو ٹوئٹر پر ایک دل چھو لینے والا پوسٹ کر کے پی ایم مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ التجا نے گجرات دورہ پر گئے پی ایم مودی کی اپنی ماں سے ملاقات کی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ انھیں کب تک الگ رکھیں گے؟
نیوز ایجنسی اے این آئی کے ذریعہ شیئر پی ایم مودی اور ان کی ماں کی تصویر کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے التجا نے کہا کہ ’’یہ تصویر دل کو چھو لینے والی ہے، لیکن گزشتہ تین مہینوں سے آپ نے میری ماں کو غیر قانونی طریقے سے نظر بند کر رکھا ہے۔ آپ نے میری ماں کے ساتھ ہی ہزاروں لیڈروں، حقوق انسانی کارکنان اور بچوں کو بھی حراست میں قید کر رکھا ہے۔ آخر ان ماؤں کو اپنے بچوں سے کب تک الگ رکھیں گے؟‘‘
Heartwarming PM sir @narendramodi .But its been 3 months since you illegally detained my mother along with thousands of politicians,civil society members & minor boys. How much longer will you separate those mothers from their sons for? https://t.co/ZHd7qjL4sr
— Mehbooba Mufti (@MehboobaMufti) November 1, 2019
غور طلب ہے کہ تقریباً تین مہینے پہلے 5 اگست 2019 کو مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر کو تقسیم کر اسے دو الگ مرکز کے ماتحت ریاست بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسی کے ساتھ حکومت نے ریاست کے تینوں سابق وزرائے اعلیٰ یعنی محبوبہ مفتی، عمر عبداللہ اور فاروق عبداللہ کو ان کے ہی گھر میں نظر بند کر دیا۔
قابل ذکر ہے کہ محبوبہ مفتی کی نظربندی کے بعد سے ہی ان کا ٹوئٹر ہینڈل ان کی بیٹی التجا مفتی چلا رہی ہیں۔ اس سے پہلے بھی انھوں نے اپنی ماں کے ٹوئٹر ہینڈل سے لگاتار مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اپنے تازہ حملے میں انھوں نے پی ایم مودی اور ان کی ماں کی تصویر کا استعمال کر کافی جذباتی پوسٹ کی ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
