منی پور میں انٹرنیٹ بند کیوں : انٹرنیٹ خدمات موقوف؛ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

منی پور میں گزشتہ تین مہینوں سے مسلسل فتنہ فساد، ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑے جارے ہیں؛ سینکڑوں زندگیاں اجڑ چکی ہیں، ہزاروں بچے یتیم ہوچکے ہیں، درجنوں عورتیں بیوہ ہوچکی ہیں اور اتنے ہی اپنی عزت و عصمت، اپنی ناموس کے پردے چاک کرا چکی ہیں، کچھ سے تو ہم باخبر ہیں اور زیادہ تر ابھی پردے میں ہی ہیں۔ لیکن جتنے کی ہمیں خبر ہے ان سے یہی پتہ چلتا ہے کہ منی پور میں حیوانیت کا ننگا ناچ ناچا جارہا ہے، احساسات و جذبات مجروح ہو رہے ہیں، قتل و غارت اور ظلم و استبداد کا ایسا ماحول گرمایا ہے کہ جس کی تپش میں چھوٹے بڑے، مرد و عورت، بزرگ و بچے سبھی جھلستے جارہے ہیں،

نسلی فساد کی چنگاری نے نہ جانے کتنے آشیانے جل کر خاکستر ہوچکے ہیں، عزت و ناموس کی تاتاری سے انسان تو انسان چرند و پرند بھی شرمندہ ہیں۔ کیا لکھا جائے اور کتنا بیان کیا جائے؟ دست قلم لرز رہا ہے، آنکھیں اشکبار یں، دل پژمردہ اور عقل و دماغ ماؤف!!! غم و غصہ انتہائی حدود کو عبور کر نوک قلم پر آنے کو بے قرار ہے۔ مگر۔۔۔
دوسری طرف ان معاملات کو لے کر حکومت بالکل ہی نکمی اور ناکارہ نظر آرہی ہے، بڑھتے فتنے فساد پر قدغن لگانے کے بجائے اسے اپنے اقتدار کی فکر ستائے جارہی ہے، حالات پر قابو پانا اب اس کی پکڑ سے باہر جاتا دکھ رہا ہے، حکمران اپنی آئینی ذمہ داریوں سے نبرد آزما ہونے سے قاصر نظر آرہے ہیں۔۔۔

کارروائی کے نام پر ابھی تک حکومت نے صرف انٹرنیٹ کی خدمات موقوف کی ہے یا تو لوگوں کو وہاں جانے سے روک رکھا ہے۔ اور دونوں کارروائیاں حکومت کی نااہلی ہی ثابت کرتے ہیں؛ کہ اگر لوگ منی پور پہنچ گئے تو وہاں کے حالات سے واقف ہوجائیں گے اور دیکھ لیں گے کہ وہاں حیوانیت کا کیسا ننگا ناچ جاری ہے، اور حکومت سے سوال کرنے لگیں گے۔ انٹرنیٹ کی خدمات بھی موقوف ہے، کیوں؟؟؟ پہلے تو ہمیں لگتا تھا کہ جہاں دنگے فساد ہوتے ہیں وہاں انٹرنیٹ اس لیے بند کردیا جاتا ہے تاکہ دنگے فساد کو ہوا نہ ملے، مگر اب ایسا لگتا ہے کہ۔۔۔

کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
حکومت اپنی نااہلی، نکماپن، مجبوری و لاچاری دکھانے سے بچنے کے لیے انٹرنیٹ کی خدمات موقوف کرا رہی ہے کہ وہاں جو قتل و ٖارت اور ظلم و بربریت کا کھیل کھیلا جارہا ہے اس پر پردہ ڈالا جا سکے، ورنہ اگر انٹرنیٹ کی خدمات بحال ہوتی تو اب تک نہ جانے کتنے ویڈیوز میں ہم حیوان نما انسانوں کے کالے کارنامے دیکھ چکے ہوتے اور حکومت کی ناکامی ظاہر ہوچکی ہوتی۔ مگر جھوٹ اور ظلم و زیادتی پر کب تک پردہ ڈالا جا سکتا ہے؟ ایک نہ ایک دن تو سب کے سامنے آہی جاتی ہے۔

تحریر: محمد شعیب رضا نظامی فیضی
استاذومفتی: جامعہ رضویہ اہلسنت، گولا بازار ضلع گورکھ پور، یو۔پی۔ انڈیا
چیف ایڈیٹر: ہماری آواز، 9792125987

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading