
ممبئی ۔24 جولائی ( پریس ریلےز ) ممبرا اور اورنگ آباد سے تعلق رکھنے والے دس نو جوانوں میں سے 8 نو جوانوں کا دفاع کرنے والی جمعیة علماءمہا راشٹر کی لیگل ٹیم نے انتہائی اہم ترین قانونی نکات پر مبنی در خواست رہائی اورنگ آباد کے خصوصی سیشن عدالت میںپیش کی ہے جس پر عدالت نے اے ٹی ایس سے جواب طلب کیا ہے ۔ اس بات کی اطلاع آج ےہاں اس مقدمہ کو مفت قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظےم جمعیة علماءمہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے دی ہے ۔مزید تفصیلات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ممبرا اور اورنگ آباد سے گرفتار کئے گئے مسلم نو جوانوں کو منظم طریقے سے اس کیس میں پھنسایا گیا ہے اور پورے ہی معاملہ میںبڑی دھاندلیاں،غیر قانونی چیزیں ،اور قانونی ضابطوں کی خلاف ور زی کی گئی ہے،چارج شیٹ داخل ہونے کے فورا بعد یو اے پی اے اور این آئی اے کے ماہر قا نون اور سینر کریمنل لائر ایڈوکیٹ پٹھان تہور خان نے اے ٹی ایس کی دھاند لیوں کوعدالت کے رو برو تحریری طور پر جاری کاروائی کو غیر قانونی قرار دیا ہے جس پر اے ٹی ایس کے طریقہ کار اور اس مقدمہ کی بنیاد پر ہی سوالیہ نشان لگ گیا ہے ،اور اے ٹی ایس انتظامیہ اور تحقیقی افسران میں ہڑ کمپ مچ گئی ہے جس کی وجہ سے امید کی جا رہی ہے کہ یہ مقدمہ جڑ سے ہی عدالت سے خارج ہو جائے گا اور بہت جلد ان تمام ملز مین کو انصاف ملے گا ۔واضح رہے کہ حال ہی میںہزاروں صفحات اور بارہ جلدوں پر مشتمل چارج شیٹ اورنگ آباد کی خصوصی عدالت میں داخل کی گئی ہے جس کی دفاع نے دھجیاں اڑا کر رکھ دی ہیں ،سماعت کی اگلی تاریخ یکم اگست ۹۱۰۲ ءمقرر کی گئی ہے ،جمعیة علماءمہا راشٹر کی جا نب سے عدالت میں اس کیس کی پیروی ایڈوکےٹ پٹھان تہور خان ،ایڈوکےٹ صدیق شیخ و دیگر کر رہے ہیں۔