جماعت اسلامی ہند شعبہ امت کاتحفظ و ترقی کے سیکریٹری عبدالروف کاپریس کانفرنس سے خطاب
ناندیڑ:16اگست (ورق تازہ نیوز)ہم سب اس بات سے واقف ہیںکہ ملک عزیز میں فسطائی طاقتیں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف نفرت کاماحول پروان چڑھارہی ہیں۔ مسلمانوں کی جان و مال محفوظ نہیں ہے ۔ بحیثیت مجموعی اُمت مایوسی اوراحساس کمتری کاشکا رنظر آرہی ہے۔ اس اُمت کو ان حالات میں رہنمائی کی ضرورت ہے ۔اسی بات کوپیش نظر رکھتے ہوئے جماعت اسلامی ہند شعبہ امت کاتحفظ و ترقی کی جانب سے پروگرام مرتب کیاگیا ہے جس کاعنوان ” امت کاتحفظ اوراسکی ترقی کس طر ح ممکن ہوسکتی ہے
“ ۔اسی ضمن میں ناندیڑ شہر میںگزشتہ روز ایک پریس کانفرنس و خصوصی نشست کااہتمام کیاگیا۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مذکورہ شعبہ کے سیکریٹری جناب عبدالروف صاحب نے کہاکہ ہمارا ملک بڑی قربانیوں کے بعد آزاد ہوا ہے جس میں مسلمانوںں کا کرداراہمیت کاحامل ہے ۔ملک کے سیاسی رہنماﺅں کو چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کوسمجھیں اور روزگار‘ صحت ‘بھائی چارہ کی طرف توجہ دیں ۔ مگر افسوس گزشتہ سات ۔آٹھ سالوں میں ملک کمزور ہوا ہے اورآج حالات کافی سنگین ہیں بلکہ یہ کہاجائے تو بے جانہ ہوگا کہ ملک خطرے میں ہے ۔ ظلم وستم بڑھ گیا ہے۔انسان انسان سے آخری حد تک نفرت کررہا ہے ۔اور یہ سب مرکز کی فسطائی حکومت کی وجہہ سے ہورہا ہے ۔
ہندوستان میں مختلف مذاہب کے لوگ آباد ہیں مگر حکومت کی نااہلی کے باعث دستور خطرے اور سیکولرزم خطرے میں ہے ۔زعفرانی حکومت ہر معاملے کابھگوان کر ن کررہی ہے اور اپنے مذہبی عقائد کو دوسروں پرمسلط کررہی ہے جس سے ملک میں بدامنی کاماحول پیدا ہوگیا ہے۔موصوف نے صحافیوں کے سوالوں کاجواب دیتے ہوئے کہاکہ سب سے بڑامسئلہ فرقہ پرستی ہے۔ایسے حالات میں مسلمانوں کو ایک سیاسی پلیٹ فارم پرآنے کی ضرورت ہے ۔انھوں نے ایک سوال کے جواب میں یہ بھی کہاکہ مسلمانوں کی ایک سیاسی پارٹی ہونی چاہئے جس میں ہمارے ہندوبھائی رہیں گے مگر اسکی قیادت مسلمان کریںگے ۔ میڈیا کے منفی رول کے بارے میں انھوں نے کہاکہ قومی میڈیا تمام حالات سے واقف ہے مگر آنکھ بند کرکے تماشہ دیکھ رہاہے بلکہ کچھ میڈیا ہاوس ملک کے حالات کو مزید ابتر کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔اسلئے مسلمانوں کایک قومی چینل اور اخبار بھی وقت کی ضرورت ہے ۔اس پریس کانفرنس میں جماعت اسلامی کے ریاستی ذمہ داران ‘ امیر مقامی جناب عامر‘ میڈیاانچارج رئیس خان ودیگر موجود تھے ۔