مغربی کنارا : اسرائیل نے نئی یہودی بستیوں کے لیے سب سے بڑا زمینی قبضہ کر لیا

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ناجائز یہودی بستیوں کی اسرائیلی آبادکاری کے خلاف سرگرم گروپ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے پچھلی تین دہائیوں کے دوران سب سے بڑے زمینی قطعہ کو نئی یہودی بستیوں کے قیام کے لیے نشان زد کیا ہے اور ان کی حکومتی سطح سے منظوری دی ہے۔

اسرائیل میں قائم امن پسند گروپ ‘پیس ناؤ’ نے بدھ کے روز انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حکام نے تقریباً 12.7 مربع کلومیٹر جو کہ 5 مربع میل کے قریب ہے وادی اردن میں نئی بستیوں کے لیے مختص کی ہے۔’پیس ناؤ’ کے مطابق یہ اب تک کا ایک اکائی کی صورت میں سب سے بڑا فلسطینی قطعہ اراضی ہے جس پر ناجائز یہودی بستیاں قائم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

گروپ کے مطابق اوسلو معاہدہ (1993) کے بعد سے امن عمل شروع ہوا تھا۔ لیکن اس عرصے کے دوران اتنے بڑے قطعہ اراضی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہودی بستیوں کے لیے استعمال میں لانا پہلے سے موجود کشیدگی میں اور اضافے کا باعث بنے گا۔

‘پیس ناؤ’ گروپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی غزہ میں حماس کے ساتھ جنگ کے بعد سے مغربی کنارے میں بھی پہلے سے کشیدگی بڑھ چکی ہے۔ جگہ جگہ اسرائیلی فوج فلسطینیوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے اور چھاپے مار رہی ہے۔ کئی جگہوں پر مسلح جھڑپیں ہو چکی ہیں۔ ایسے میں نئی یہودی بستیوں کا یہ نیا آغاز خطرے کی گھنٹی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے ان یہودی بستیوں کے لیے بڑے قطعہ اراضی کو قبضے میں لے کر استعمال کرنے کا فیصلہ پچھلے ماہ کیا تھا۔ تاہم اس کی خبر پہلی بار بدھ کے روز سامنے آئی ہے۔

ماہ مارچ میں اسرائیلی حکومت نے تقریباً 3 مربع میل جگہ کو مغربی کنارے میں نشان زد کیا تھا۔ جبکہ ایک مربع میل جگہ ماہ فروری میں نشان زد کی تھی۔’پیس ناؤ’ گروپ کا کہنا ہے ‘سال 2024 اس حوالے سے سب سے زیادہ وسیع جگہ پر یہودی بستیوں کی نئی تعمیر کا سال قرار پائے گا۔’

فلسطینی قیادت ان نئی بستیوں کے تعمیراتی منصوبہ کو مغربی کنارے میں پائیدار امن کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتی ہے۔بین الاقوامی برادری بھی ناجائز یہودی بستیوں کے خلاف ہے اور اسے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں قبول کرنے کو تیار نہیں۔

واضح رہے اسرائیل نے مغربی کنارے کو 1967 میں قبضہ میں لیا تھا اور اب تک یہ علاقہ اسے کے زیر قبضہ ہے۔ اسرائیل نے اس علاقے میں 100 سے زائد یہودی بستیاں قائم کر رکھی ہیں۔ جہاں 5 لاکھ سے زیادہ ایسے یہودی آباد کیے گئے ہیں جنہیں دوسرے ملکوں سے لایا گیا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading