’معیشت تباہ، ملازمتیں ختم، بچت کی لوٹ، لیکن باقی سب ٹھیک ہے‘

کانگریس نے معیشت اور ملک میں ملازمتوں کو لے کر مودی حکومت پر طنز کے تیر چلائے ہیں۔ کانگریس کے ٹوئٹر ہینڈل سے اس سلسلے میں کئی ٹوئٹ کیے گئے ہیں اور بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ کانگریس نے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’ہندوستان کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف ہماری معیشت ہے جو چوپٹ ہو رہی ہے، ملازمتیں ہیں جو ختم ہو رہی ہیں اور ہماری بچت لوٹی جا رہی ہے، لیکن باقی سب ٹھیک ہے۔‘‘


کانگریس کے اس ٹوئٹ میں جی ڈی پی، بے روزگاری، آٹو موبائل سیکٹر اور مینوفیکچرنگ گروتھ کا تذکرہ ہے۔ اس ٹوئٹ میں ان چیزوں پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے کہ’’گزشتہ 6 سال کے مقابلے میں جی ڈی پی سب سے کم یعنی 5 فیصد ہے۔ گزشتہ 19 سالوں کے مقابلے میں آٹو سیکٹر کی حالت خستہ ہے۔‘‘

کانگریس نے ایک دیگر ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ’’امریکہ میں جا کر ہندوستان میں سب کچھ ٹھیک ہونے کا دعویٰ کرنے سے پہلے پی ایم مودی ایک بار جموں و کشمیر کی تکلیف کو محسوس کر لیتے۔ ایک بار کشمیریوں کو گلے لگا لیتے۔ کشمیریت کو زندہ رکھنے کوشش کرتے۔ تب شاید ان کا ’سب ٹھیک ہے‘ کہنا مناسب ہوتا۔‘‘


کانگریس نے اس کے علاوہ بھی ایک ٹوئٹ کیا جس میں اس نے لکھا ہے کہ ’’بیرون ممالک کی نگاہ میں ہندوستان ہمیشہ رول ماڈل ملک رہا ہے۔ ہم نے ہمیشہ دنیا کی رہنمائی کی ہے۔ لیکن آج ہمارے حصے میں بھکمری، میڈیا کو دبانے، خواتین کے عدم تحفظ، جیسے چبھتے سوال ہیں۔ کاش، مودی جی ’بیان ویر‘ (بیان دینے میں ماہر) نہ ہوتے۔ لیکن باقی سب ٹھیک ہے۔‘‘


واضح رہے کہ اتوار کے روز پی ایم مودی نے ’ہاؤڈی مودی‘ پروگرام میں ہزاروں این آر آئی سے خطاب کیا تھا۔ اس دوران انھوں نے ہندی زبان سمیت کئی علاقائی زبانوں میں اسٹیج سے کہا تھا کہ ہندوستان میں سب اچھا ہے۔ لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا تھا کہ ہندوستان میں مندی ہے، نوجوانوں کی ملازمتیں جا رہی ہیں اور ہر سیکٹر کے لوگ پریشان ہیں۔

پی ایم مودی کے ’سب اچھا ہے‘ والے بیان کو لے کر سابق وزیر مالیات پی چدمبرم نے حملہ بولا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہندوستان میں بے روزگاری کو چھوڑ کر باقی سب ٹھیک ہے۔‘‘ چدمبرم نے ایک ٹوئٹ میں بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ بھی لکھا کہ ’’ملازمتوں پر بحران، موب لنچنگ، کشمیر میں تالہ بندی، اپوزیشن لیڈروں کو جیل میں ڈالنا اور کم تنخواہ چھوڑ کر ہندوستان میں سب اچھا ہے۔‘‘

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading