لکھنؤ: شہریت ترمیمی قانون کے خلاف 19 دسمبر کو اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں ہونے والے احتجاج میں شامل افراد کے فوٹو والے بڑے بڑے پوسٹر (ہورڈنگ) سڑکوں کے کنارے لگائے جانے پر الہ آباد ہائی کورٹ نے از خود نوٹس لیا ہے۔ جن افراد کے ہورڈنگ سڑکوں پر لگائے گئے ہیں ان سبھی پر سی اے اے مخالف مظاہرہ کے دوران عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے اس معاملہ کی حساسیت کے پیش نظر اتوار کو چھٹی کے دن بھی سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ہائی کورٹ کے چیف جسٹس گووند ماتھر کی عدالت نے اس معاملے میں لکھنؤ کے ضلع مجسٹریٹ اور ڈویژنل پولیس کمشنر کو طلب کیا ہے۔ ضلع انتظامیہ نے جمعرات کے روز سی اے اے مخالف 53 مظاہرین کی تصاویر مع نام پتہ والے ہورڈنگ شہر بھر میں اہم چوراہوں پر نصب کر دیئے تھے۔ ان ہورڈنگ میں شیعہ عالم دین مولانا سیف عباس، سابق آئی پی ایس افسر داراپوری اور کانگریس کی رہنما صدف جعفر کی تصاویر بھی شامل ہیں۔
سابق آئی پی ایس ایس افسر داراپوری نے انتظامیہ کی کارروائی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت مظاہرین کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جبکہ سماجی کارکن دیپک کبیر نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے سی اے اے مخالف مظاہرین کے نام والے ہورڈنگ لگائے جانے سے خوف کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کے نام پوسٹر پر درج ہیں ان کو کہیں بھی لنچ کیا جا سکتا ہے، یہ شرمناک ہے۔ نیز اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ دہلی تشدد کے بعد ماحول محفوظ نہیں ہے۔ حکومت سب کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔
ادھر، اتر پردیش کے وزیر محسن رضا نے الزام لگایا کہ جن لوگوں کے نام ہورڈنگ میں لکھے گئے ہیں انہوں نے عوامی املاک کو تباہ کیا ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا، ’’ان لوگوں کی تصاویر کو ہٹا دیا گیا ہے جنہوں نے شہریت ترمیمی قانون کی آڑ میں بد امنی پیدا کرنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے ریاست کے عوام کو نقصان پہنچایا اور عوامی املاک کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔ اب ان سے نقصان کی تلافی کی جائے گی۔‘‘
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو