مصر : لڑکیوں کو ہراساں کرنے والے حافظ قرآن گرفتار، حیران کن انکشافات

قاہرہ – العربیہ ڈاٹ نیٹ۔ مصر میں جیزا سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کے حکام ایک قاری حراست میں لیا ہے جس پر گورنری کے جنوب میں واقع البدرشین کے علاقے میں قرآن پاک حفظ کرنے کے ایک مرکز کے اندر متعدد لڑکیوں کو ہراساں کرنے کا الزام ہے۔

اس کیس شروعات اس وقت ہوئی جب جیزا سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کے بدرشین پولیس اسٹیشن کے تفتیشی افسران کو ایک لڑکی کی جانب سے ایک رپورٹ موصول ہوئی جس میں کہا گیا تھا کہ اسے ایک نامعلوم نمبر سے "واٹس ایپ” ایپلی کیشن کے ذریعے ہراساں کرنے والے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ جب سکیورٹی سروسز نے اس نمبر کو ٹریک کیا تو پتہ چلا کہ اس کا تعلق بدرشین تھانے کی حدود میں مقیم ایک حافظ قرآن سے تھا۔ پولیس نے نمبرکو ٹریس کرکے اسے کوڈفائی کیا اور پبلک پراسیکیوشن سے پیشگی اجازت حاصل کرکے ملزم کے خلاف کارروائی کی۔

ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے فون کی جانچ سے یہ بات سامنے آئی کہ اس کے موبائل میں قرآن حفظ کرنے والے مرکز کے اندر کی طالبات کو ہراساں کرنے ویڈیو کلپس موجود ہیں۔

ایک وکیل، مذہبی رہ نما اور انسانی ترقی کا مربی

مصری جیزا گورنری میں گرفتار قاری کےکیس کی تحقیقات سے نئے حیران کن انکشافات ہوئے جس پر نابالغوں کو ہراساں کرنے اور خفیہ طور پر ان کی تصاویر بنانے کا الزام ہے۔

ملزم کا نام ’شیخ مصطفیٰ‘‘ بتایا جاتا ہے جونہ صرف قرآن کے حافظ ہے بلکہ وہ ایک وکیل، مذہبی مبلغ اور انسانی ترقی کے تربیت کار بھی تھے۔

جمعرات کو مصری میڈیا کے مطابق تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ "شیخ مصطفی” لڑکیوں کو ہراساں کرنے اور ان کے علم میں لائے بغیر ان کی تصاویر بنانے کے لیے اپنی مذہبی حیثیت کا غلط استعمال کر رہے تھے۔

ملزم کی عمر 32 سال ہے وہ بچوں کو قرآن حفظ کرانے کے لیے ایک مدرسے میں کام کرتا ہے۔

گرفتاری کے فوراً بعد ملزم نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ اس نے لڑکیوں کو ہراساں کرتے ہوئے ان کی ویڈیو بنائیں اور یہ کلپس اپنے فون اور پرسنل کمپیوٹر پر منتقل کیے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading