ہم نے کتابوں میں پڑھا تھا کہ "خرد کا جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد؛ جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے” لیکن اس پرفتن دور میں اس کی مثال ایسی بھیانک و خطرناک ملے گی کہ عالم اسلام اور مسلمانوں کے جگر چھلنی کر دے گی اور دشمنان اسلام کی فتنہ پروری و کذب بیانی حامیان اسلام کے وجود پر لرزہ طاری کردے گی۔۔! ہمارے وہم و گمان اور خیال تصور میں بھی نہیں تھا، خبر ہے کہ اسلام دشمن عناصر نے سری لنکا میں دہشت گردانہ کارروائی میں عالم اسلام کی اہم شخصیات کو کٹہرے میں لانے کی قبیح کوشش کی ہے، اور دجالی میڈیا ان حملوں کا ذمہ دار سلطان العلما، امیرِ اتحاد عالمی الامام یوسف القرضاوی، دارالعلوم ندوۃ العلماء کے معروف عالم دین خطیب العصر مولانا سلمان حسینی ندوی اور علوم اسلامیہ کے مشہور فقیہ محترم عادل الحرازی حفظھم الله جمیعا ٹھہرا رہی ہے۔ اس پروپیگنڈے نے جہاں محبان اسلام کے وجود کو ہلا کر رکھ دیا ہے وہیں ملکی میڈیا نے الزام تراشی کے سارے حدود پار کرتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دریدہ دہنی کا مظاہرہ کر رہی ہے، ابھی گزشتہ دنوں نیوزی لینڈ کی مساجد میں کھلے عام مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا، ہم نے کسی بھی وقت یہ نہیں کہا کہ اس کے پیچھے عیسائی پادریوں کا ہاتھ ہے یا اس کا ذمہ دار عیسائی مذہب ہے اور نہ ہمیں ہماری تہذیب اجازت دیتی ہے کہ چند لوگوں کی حرکت کی وجہ سے پورے مذہب اور اس کے پیشوا کو مورد الزام ٹھہرایا جائے، لیکن یہی حملہ جب مسلمانوں کے نام پر کیا جاتا ہے (جو کہ نہایت درندگی اور انسانیت کے خلاف ہے) تو عالمی صلیبی میڈیا دھڑلے سے اسلام اور حامیان دین اسلام کے سر تھوپنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی۔۔!
اک ادنی سی سمجھ رکھنے والا بھی ان صلیبی میڈیا کی ناپاک جسارت کو سمجھ سکتا ہے لیکن کہتے ہیں نا کہ "جس کی لاٹھی اس کی بھینس” تو حکومت انکی ہے اور میڈیا ان کی طواف بنی ہوئی ہے، جو (گریٹر اسرائیل کے قیام کے لیے ہر مذموم حرکت کرتی نظر آتی ہے)،
ہر انصاف پسند یہ سمجھ سکتا ہے کہ جس کے پاس مہلک ہتھیار ہے وہی ایسی درندگی کر سکتے ہیں اور جو حالات کے مارے ہوئے ہیں اور حالت یہ ہو کہ وہ خود اپنا ذاتی دفاع تک کرنے کی طاقت تو دور کھڑے ہونے کی طاقت بھی نہیں رکھ سکتا ہو وہ بھلا کیسے اتنی بڑی درندگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔۔!
عجیب لطیفہ ہے کہ مہلک ہتھیار کے بنانے والے اور اس کے سوداگر تو امن پسند ٹھہرے اور جو لوگ ایک چھوٹی سی سوئی بھی نہیں بنا سکتے وہ دہشت گرد کہلائے۔۔!
کیا دنیا والے نہیں جانتے کہ یورپین ممالک بنیاد اور نام نہاد ترقی ان ہی مہلک ہتھیار کے بنانے اور بیچنے پر قائم ہے؟؟ کیا ہم یہ نہیں جانتے کہ ان حقیقی دہشت گرد ملکوں کی آمدنی کا ستر فیصد حصہ ان ہی بم و بارود ہے؟؟
جس دن ہتھیار بلکہ انسانی موت کے سوداگر نیوکلیئر بم اور دیگر ہتھیار کا بنانا اور بیچنا بند کر دیں گے اسی دن سے دنیا امن و امان کا گہوارہ بھی بن جائے گی۔ ! لیکن وہ ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے کیونکہ ان موت و خون کے سوداگروں کو ہر وقت یہ ڈر ستائے رہتا ہے کہ جس دن دنیا میں امن قائم ہوگا اسی روز سے ان امن و سلامتی کے دشمن کی دادا گیری چھن جانے گی اور جس دن ہتھیار بنانا و بیچنا بند ہوگا یہ یورپین ممالک کی ترقی و خوشحالی زمین دوز ہو جائے گی کیونکہ ہم نے اوپر لکھا کہ ان کی ترقی کی بنیاد ہتھیار کی خریدو فروخت اور انسانیت کے خون پر قائم ہے، اس لیے یہ گوری چمڑی والے اور من کے کالے من کے کالے کبھی نہیں چاہیں گے کہ دنیا میں امن کا قیام ہو۔۔!
یہ صرف دعوے اور وعدے تک ہی محدود ہیں، دہشت گردی کے نام پر کسی بھی ملک پر چڑھائی تو کر سکتے ہیں لیکن امن و امان کبھی قائم نہیں کریں گے، ہم نے افغانستان سے شام تک عراق سے لیبیا تک اور دیگر ممالک میں بھی ان کی درندگی دیکھی ہے اور دنیا بھی دیکھ چکی ہے، اس لیے ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ان یورپین ممالک کو امن کا علمبردار سمجھنا گویا بکریوں کی رکھوالی پر بھیڑیوں کو مامور کرنا ہے۔ جس طرح بھیڑیوں سے خیر کی توقع کرنا ناسمجھی اور بیوقوفی ہے ٹھیک اسی طرح بلکہ اس سے بڑھ ناعاقبت اندیشی ہوگی کہ ان یورپین ممالک سے امن و انصاف کی امید لگائی جائے۔۔!
اگر اب بھی ہم دنیا کے سامنے ان دجال کے کارندوں کی درندگی و شقاوت قلبی کو واضح نہیں کریں گے تو یاد رکھیے تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی، ہماری آنے والی نسلیں کوسیں گی،
مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہماری یہ دوہری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم احقاق حق اور ابطال باطل کے لیے مادی وسائل کا استعمال کریں اور دنیا کے سامنے ان درندوں کی اصلی صورت پیش کریں، میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا اب بھی وقت نہیں آیا ہے کہ ملک قوم کی فلاح و بہبود اور خصوصا ملی مسائل کو ایوان صدر تک پہنچانے کے لیے ہم مسلمانوں کا بھی الگ میڈیا ہاؤس ہو؟؟؟ الحمدللہ اب بھی مسلمانوں کے پاس نہ وسائل کی کمی ہے اور نہ ہی صلاحیت کی کمی ہے؛ کمی ہے تو بس وقت اور حالات کے مطابق فیصلے لینے کی اور مصلحت اندیشی کی۔! میری رائے ہے کہ بصیرت آن لائن (بصیرت میڈیا گروپ جو نوجوان علماء و مفتیان کرام اور اسلامک اسکالرز پر مشتمل صحافیوں کی ٹیم) ہمارے لیے نعمت عظمی سے کم نہیں ہے جس اکابر علماء و مشائخ نے مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے اگر ہم چاہیں تو اسی ٹیم کو اس اہم کام کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
الحمد للہ اب بھی ملک میں ایسے سرمایہ دار مسلمان بستے ہیں جو اکیلے میڈیا ہاؤس کے قیام کی سکت و طاقت رکھتے ہیں، مجھے امید ہے کہ دشمنان اسلام کے پروپیگنڈے کا مسکت و منہ توڑ جواب دینے کے لیے کم از کم اب تو مالدار مسلمان قوم کے لیے اپنی قیمتی پونجی لگائیں گے، حالات ضرور خراب ہے لیکن اللہ کے فضل و کرم سے ہماری قوم ابھی بانجھ نہیں ہوئی ہے، بارگاہ ایزدی میں دعا گو ہوں اللہ پر یقین رکھتے ہوئے لکھ رہا ہوں وہ ضرور کسی نہ کسی کو توفیق دے گا ان شاء اللہ،
جب ہم جانتے ہیں کہ آج دنیا میں جو ہماری درگت بنی ہوئی ہے وہ ہماری مستقبل کی تئیں مضبوط پالیسی نہ بنانے کی وجہ سے ہے، اور آج ہم پر جو ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اور ہماری آواز دبائی جا رہی ہے معصوم و بے گناہ ہونے کے باوجود ہمیں اور ہماری قوم کو دہشت گرد ثابت کیا جا رہا ہے وہ ہماری میڈیا ہاؤس کے قیام میں غفلت برتنے کی وجہ سے بھی ہے۔!
یاد رکھیے اگر اب بھی ہم اپنے میڈیا
ہاؤس کے قیام کے لیے فکر مند نہیں ہونگے اور میڈیا ہاؤس کے قیام کو عملی جامہ نہیں پہنائیں گے تو ہماری حالت مزید خراب ہوگی، ہماری آواز یونہی دبائی جاتی رہیں گی، ہم یونہی بے گناہ ہو کر بھی دہشت گرد گھوشت کیے جاتے رہیں، ہمارے حقوق یونہی سلب کیے جاتے رہیں گے، کیونکہ
تقدیر کے قاضی یہ فتوی ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات
اس لیے حالات کا تقاضا ہے کہ مسلم میڈیا ہاؤس کے قیام کو یقینی بنایا جائے اور اس کی تئیں مکمل دانشمندی و عقلمندی سے کام لیا جائے۔
اللہ پاک ہمیں سمجھ دے اور ہمارے امت مسلمہ کی خیر خواہی کے لیے دولتمند و صاحب ثروت مسلمان کو آگے آنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین

مفتی غلام رسول قاسمی
8977684860
Gulamrasool939@gmail.com