مسلمان اور انصاف

عمر فراہی

بابری مسجد شہادت سے ایک سال پہلے 1991 کی بات ہے کالج سے نکل کر ایک کمپنی میں ملازمت کرتے ہوئے ابھی مجھے دو مہینے ہوئے تھے ۔یہ کمپنی دواؤں کی مشین بناتی تھی اور صرف پینتیس آدمی کام کرتے تھے۔مالک نے مجھے کمپنی میں پروڈکشن کی ذمداری کیلئے مشین کے پارٹس کے علاوہ دیگر کچھہ ذمداریاں بھی سونپ دی تھی ۔کمپنی میں جو اسکریپ یعنی بھنگار نکلتا تھا اس کا حساب کتاب بھی مجھے ہی دیکھنا تھا۔مہینے کا تقریباً بیس ہزار کا بھنگآر ایک مسلمان بھنگار والا لے جاتا تھا۔بھنگار والا جب بھی آتا میں اپنے سامنے وزن کروا کر آفس میں حساب بتا دیتا تھا ۔ایک دن جب بھنگار والا آیا تو اتفاق سے مالک بھی کمپنی میں موجود تھے ۔انہوں نے مجھ سے کہا عمر ملا جی کے بھنگار کا وزن برابر چیک کرتے ہو یہ لوگ بہت چور ہوتے ہیں !

ابھی تک چونکہ میری ذہنیت مکتب اور اسکول سے لیکر کالج میں صرف مسلمان لڑکوں کے ساتھ پروان چڑھی تھی اور ہمارے ذہنوں میں یہی بھرم قائم تھا کہ صرف مسلمان ہی سچا ہوتا ہے باقی کافر بے ایمان ہوتے ہیں اس لیے مجھے مالک کی یہ بات بری لگی ۔میں نے سوچا کہ یہ ساٹھ سال کا مسلمان جس کے چہرے پر لمبی داڑھی بھی ہے چور کیسے ہوسکتا ہے ؟

پھر بھی مالک کے کہنے پر میں نے دھیان سے بھنگار والے کے کانٹے کو دیکھا مجھے کوئی نقص نظر نہیں آیا ۔اس نے بھنگار وزن کیا اور میں نے لکھ بھی لیا لیکن پھر میرے دماغ میں ایک بات آئی کہ کیوں نہ کانٹے کو اصلی پانچ کلو کے وزن سے تپاسا جائے۔میں نے ایک ورکر کو لیا اور بازو کے گالےمیں لے جاکر اپنے سامنے پانچ کلو کے اصلی وزن سے تپاسا تو دیکھا کانٹا فرق بتا رہا ہے۔ہوتا یہ ہے کہ بھنگار والے اپنے وزن کانٹے کی اسپرنگ کو ٹائٹ کردیتے ہیں ۔میں نے اسے اصلی وزن سے برابر سیٹ کرواکر جب پھر وہی بھنگار دوبارہ وزن کروایا تو بھنگار کی دس گٹھریوں میں دس کلو کے حساب سے سو کلو کا فرق آیا ۔یہ چوری ممکن ہے وہ کمپنی کے پہلے انجینئروں کو کچھ لے دے کر کرتا رہا ہوگا ۔ اب وہ گڑگڑانے لگا کہ سیٹھ کو نہ بتائیں ۔میں نے کہا چچا میں یقیناً سیٹھ کو نہ بتا کر یہ گناہ اپنے سر لے لوں گا کیونکہ مجھے خود شرم آتی ہے کہ ایک داڑھی والے مسلمان کو ایک غیر مسلم کے سامنے رسوا کروں لیکن برائے مہربانی آئندہ ایسا نہ کریں کیونکہ آپلوگوں کی حرکتوں سے اسلام اور مسلمان بدنام ہوتا ہے اور اسے سمجھایا کہ دیکھئے اسی ناپ تول میں کمی کی وجہ سے ایک نبی کی قوم کو زمین میں دھنسا
دیا گیا تھا ۔جو قوم تجارت میں انصاف نہیں کرسکتی اسے اگر اللہ حکومت سونپ دے تو کیا وہ انصاف کرےگی ۔شاید یہی وجہ بھی ہو کہ اللہ نے ہماری اسی برائی کی وجہ سے ہم سے اقتدار چھین کر ہمارے اوپر دوسری قوم غالب کردیا ہے اور ہم رسوا اور ذلیل ہورہے ہیں۔
آج میں خود مشینوں کے پارٹس کے کاروبار سے منسلک ہوں اور دیکھتا ہوں کہ سارے بھنگار والے مسلمان ہیں اور اکثریت کے چہرے پر داڑھی ہے اور یہ لوگ ملاجی کے نام سے مشہور ہوتے ہیں ان کے بارے میں عام لوگوں کے اندر ایک شبیہ بنی ہوئی ہے کہ یہ چور ہوتے ہیں !
یہ تو بھنگار والے کی کہانی ہے ۔ ایک بار میرے ایک دوست نے میری ہمدردی میں مجھ سے کہا کہ عمر بھائی میں نے اپنے فلاں دوست سے کہا ہے کہ عمر بھائی کو کام دیا کرو ۔میں نے کہا بھائی آپکی ہمدردی کا شکریہ لیکن میرے پاس کاروبار کیلئے کسی مسلمان کو نہ بھیجا کریں ۔آپ صرف اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اگر میں نے اس جھنجھلاہٹ کا اظہار کیا ہے تو اس لیے کہ میں جن چالیس سے پچاس لوگوں سے کاروبار کر رہا ہوں ان میں مسلمآن کاروباریوں کے معاملات کے تعلق سے میں بہت تلخ تجربات سے گزر رہا ہوں ۔۔۔۔؟؟
کسی نے ایک وہاٹس اپ گروپ پر بابری مسجد کے تعلق سے لکھا ہے کہ

"*اے اللہ*
*اے خانہ کعبہ کے مالک*
*اے بابری مسجد کے مالک*
*جس طرح آپ نے اپنے گھر کی حفاظت ابابیل کے ذریعہ پتھر برساکر کی، اسی طرح تیرے گھر کو شہید کرکے شرک کا اڈہ بنانے والوں سے بدلہ لے اور ان کے مجمع پر ایسا عذاب نازل فرما جو تاریخ کا حصہ بنے اور تیرے نافرمان بندوں کے لئے قیامت تک عبرت ہو*” ۔

کسی نے اس کا جواب دیا کہ دعا تو اس وقت بھی مانگی جارہی تھی جب کارسیوک مسجد کو شہید کررہے تھے لیکن کوئی ابابیل نہیں آئے ۔

کسی نے لکھا کہ یہ سب ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے
دوسرے صاحب لکھتے ہیں کہ

کیا ہمارے اعمال مشرکینِ مکہ سے بھی بدتر ہیں ؟

میں خود اپنے کاروبار کا بہت قیمتی وقت نکال کر اخبارات اور آجکل فیس بک پر کچھ زیادہ ہی لکھ رہا ہوں ۔میرے پاس مسلمانوں کی اخلاقی صورتحال پر لکھنے کیلئے بہت کچھہ ہے لیکن وقت بھی کم ہے ورنہ میں یہ ثابت کرسکتا ہوں کہ اس وقت ہندوستان میں مسلمانوں کی اخلاقی صورتحال نہ صرف مشرکینِ مکہ خود مقامی غیر مسلموں سے بھی بدتر ہے ۔وعدہ خلافی, دھوکہ ,بدزبانی اور طرح طرح کی خرافات سے مسلمانوں کو اب کوئی مہدی ہی نجات دلا سکتا ہے لیکن جب تک اس مہدی کا ظہور نہیں ہوتا مسلمان جس ذہنی اذیت, ذلت اور رسوائی کے عذاب سے گزر رہا ہے یہ عذاب پھر بھی بہت کم ہے !
قرآن کی کسی آیت کا مفہوم ہے جو مجھے اس وقت یاد نہیں جس میں اللہ تعلی نے نافرمانبرداروں پر عذاب کی شکل بتائی ہے کہ اللہ ایسے نافرمانبرداروں پر ایسے ظالم لوگوں کو مسلط کردیتا ہے جو ان کی بستیوں کو تباہ کرتے ہیں ,مسجدوں کو نذر آتش کردیا جاتا ہے اور ان کے گھروں میں گھس کر عورتوں کی عزت و آبرو کو پامال کرتے ہیں ۔
مجھے بتانے کی ضرورت نہیں کہ 1947 کے بعد مسلسل دلی, مرادآباد ,میرٹھ ,ملیانہ ,بھیونڈی ,مئو ,مبارکپور ,بھاگلپور ممبئی اور گجرات کے فسادات میں مسلمانوں کے ساتھ کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔!!؟
لیکن ۔۔۔۔۔۔
مسلمانوں کو پھر بھی یہاں کی ہندو آبادی کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ فرقہ پرست یہاں کی آبادی میں نفرت کا ماحول پیدا کرنے میں بہت کامیاب نہ بو سکے اور ہندوستان کو جس طرح اسپین اور برما بنانے کی بات کی جارہی تھی کہیں نہ کہیں مسلمانوں کو یہاں کے انصاف پسند ہندو دانشوروں سے سہارا ملا اور وہ سہارا اب بھی قائم ہے اور یہ بھی دھیان رہے کہ ہندوؤں کی اکثریت ابھی بھی بہت فرقہ پرست نہیں ہے جبکہ مسلمان خود مسلمانوں کا دشمن ہے ۔ ۔مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی اخلاقی شبیہ کو بہتر بنائیں ورنہ مستقبل میں اگر حالات خراب ہوتے ہیں تو اس کے قصوروار خود مسلمان بھی ہونگے بدقسمتی سے مسلمانوں کا اپنا انتشار اور منتشر قیادت بھی مسلمانوں کیلئے کسی عذاب سے کم نہیں ہے ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading