مسلمانوں کے خلاف قابلِ اعتراض تبصرے ،اجیت پوار نے بی جے پی کو بنایا تنقید کا نشانہ

مہاراشٹر میں اسمبلی انتخابات کے لیے سیاسی سرگرمی لگاتار بڑھتی جا رہی ہے۔ مختلف پارٹیوں کے رہنما اپنی موجودگی درج کرانے کے لیے مسلسل بیانات دے رہے ہیں۔ اسی ضمن میں مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار بھی پیچھے نہیں ہیں۔ لیکن انہوں نے اپنی ہی اتحادی جماعت بی جے پی کو اشاروں اشاروں میں تنقید کا نشانہ بنا دیا۔

اجیت پوار نے چاکن میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے کچھ لوگ ایک خاص طبقہ کو نشانہ بنا کر قابل اعتراض تبصرہ کر رہے ہیں۔ این سی پی ایسی زبان کی سخت مخالفت کرتی ہے۔ اس طرح کی باتوں سے سماج میں درار پیدا ہوتی ہے۔

اجیت پوار کا بیان ظاہری طور پر بی جے پی ایم ایل اے نتیش رانے پر تبصرہ مانا جا رہا ہے، جنہیں حال ہی میں ایک ویڈو میں سنا جا سکتا ہے کہ وہ لوگوں کو صرف ہندوؤں کے ساتھ ہی کاروباری لین دین کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ واضح ہو کہ کنکولی سے رکن اسمبلی نتیش رانے پہلے بھی تنازعات میں رہے ہیں جب انہوں نے ناسک کے رام گیری مہاراج کے غیر اخلاقی تبصروں کے خلاف ایک طبقہ کے مظاہرہ کو غلط بتاتے ہوئے دھمکی دی تھی۔

دوسری طرف تقریب میں موجود لوگوں سے ووٹنگ کرتے وقت جذباتی نہ ہونے کی گزارش کرتے ہوئے اجیت پوار نے ان سے حمایت بھی طلب کی۔ اجیت پوار نے کہا کہ گزشتہ 34 برسوں سے عوام کی خدمت کیے جانے کے باوجود انہیں اب تک بہترین خطاب کے لیے بہترین رکن پارلیمنٹ کا ایوارڈ نہیں ملا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading