مسلمانوں کو چاہیے وہ قرآن وحدیث اور اہلبیت کو مضبوطی سے تھام لے:مولانا حسیب احمد انصاری
نئی دہلی:4۔ستمبر(ورق تازہ نیوز)آج ہندوستان میں مسلمانوں کے جوحالات ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے،یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہئے کہ ماضی میں مسلمانوں پر اس سے بھی زیادہ سخت حالات آچکے ہیں اور ایسا دور بھی گذرا ہے کہ جب چاروں طرف اندھیرا ہی اندھیرا نظر آتا تھا لیکن پھر اللہ تعالی نے اندھیریوں کے درمیان اجالے کی کرن ظاہر فرمائی،اب بھی تمام اہل ایمان کو اللہ تعالی کی ذات پر بھروسہ رکھنا چاہئے اور ایمان ویقین اور اچھے اعمال کی راہ پر آگے بڑھنا چاہئے اس جذبے کے ساتھ کہ آنے والے چیلنجز کا ہم پوری ہمت،عزم اور حوصلے کے ساتھ مقابلہ کریں گے،اور توحیدو رسالت کی امانت کے ساتھ زندہ رہیں گے اور اسی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوں گے۔حضور ﷺ نے ار شاد فرمایا:ابن آدم جس سے خوف کرتا ہے اس پر وہی مسلط کردیا جاتا ہے،اور اگر ابن آدم اللہ کے سوا کسی سے خوف نہ کرے تو اس پرکوئی شخص مسلط نہیں ہوسکتا۔
ابن آدم جس سے امید رکھتا ہے تو اس کے سیاہ وسفید کا ذمہ دار وہی شخص بنادیا جاتا ہے،اور اگر ابن آدم اللہ کے سوا کسی سے امید نہ رکھے تو اللہ تعالی اس کاذمہ اپنے ذمہ کرم پر لے لیتا ہے۔{صحیح البخاری،۴۶۷} ان تاریخی وفکری کلمات کا اظہار مبلغ سنی دعوت اسلامی حسیب احمد اشرفی {معلم حراء انگلش اسکول}نے SKSSFکے زیر اہتمام پروگرام نیودہلی میں اہل علم سے خطاب فرمایا۔
مولانا موصوف نے آخر میں یہ کہا کے اللہ تعالی قرآن میں ارشاد فرماتا ہے:اور جس نے میرے ذکر {یعنی میری یاد اور نصیحت}سے روگردانی کی تو اس کے لیے معاش{بھی}تنگ کر دیا جائے گا۔{سورہ طہ،۱۲۴} ایسے وقت میںمسلمانوں کو چاہیے وہ قرآن وحدیث اور اہلبیت کو مضبوطی سے تھام لے اور اس وقت جب دستوری حفاظت اور مذہبی آزادی کی پاملی کی جارہی ہے کوئی بھی مثبت اقدام کی امید لگائے رکھنا ایک بیوقوفی ہے۔مخالف گروہ آج کمزور ہوچکی ہے جبکہ اقلیتوں میں رہنے والی قوم خوف وہراس کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔امید کی آخری عدلیہ سے ہے جس نے عدم رواداری کے خلاف ابھی تک کوئی مثبت اقدام نہیں اٹھائی ہیں ۔ایسے وقت میں مسلمان اپنے قوم کی باگ دوڑ کسی ایسے باعلم وعمل شخص کے ہاتھ میں دے جو اپنی مخلصانہ جدوجہدفقط رضاء الہی اور ترقی امت کے لئے ہوںپھر وہ دن دور نہیں کہ وہ سماج کا ستارا عروج پر ہوگا۔