مسلمانوں کی دکانوں کو ہندو مندروں کے قریب سے ہٹایا جائے: وی ایچ پی

نئی دہلی: وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے ہندو مندروں اورتیرتھ استھلوں (زیارت گاہوں) کے علاقوں میں مسلمانوں کی دکانیں بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔وی ایچ پی جنرل سکریٹری بجرنگ باگڑا نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا، ہمیں بہت سی جگہوں سے اطلاع ملی ہے کہ وہاں کے لوگ جو بھارت ماتا کی جئے یا وندے ماترم بھی نہیں کہہ سکتے اور مورتی پوجا کے خلاف ہیں، وہ غلط ناموں کا استعمال کر کے ہندو دیوی دیوتاؤں کے ناموں سے یا ہندو عقائد گاہوں کے نام سے ہمارے دھرم استھلوں پر پرساد اور پوجا کے سامان بیچ رہے ہیں۔
ملک بھر میں ایسے بہت سے واقعات منظر عام پر آچکے ہیں، جہاں سبزیاں اور دیگر کھانے پینے کی اشیا پر تھوک کر ناپاک کیا جاتا ہے اور پھر ہندوبھکتوں کو فروخت کیا جاتا ہے، جس سے ہندوؤں کے جذبات مجروح ہو رہے ہیں۔

باگڑا نے کہا کہ ملک میں کئی مقامات پر مسلم فرقہ کے لوگ بھگوان کے نذرانے (بھوگ)، شرنگھار اور نذرانے سے متعلق بہت سی اشیا کو ناپاک کرکے فروخت کر رہے ہیں جو کہ ہندو عقیدے کے ساتھ کھلواڑ ہے، جسے فوری طور پر روکنے کی ضرورت ہے۔

باگڑا نے کہا وی ایچ پی تمام ریاستی حکومتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ہندو مندروں اور مذہبی مقامات کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے مذہبی دھوکہ بازوں کے خلاف فوری طور پر موثر قدم اٹھائیں تاکہ معاشرے کے عقیدے اور عقائد کو کسی بھی طرح سے نقصان نہ پہنچے۔

ساتھ ہی ہم ہندو سماج سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ ایسے دھرم دروھیوں سے ہوشیار رہیں، انہیں بے نقاب کریں اور مقامی حکومتی انتظامیہ کو بروقت اطلاع دیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading