مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے جیت ہار کا سوچ لیتے ہیں۔ بیرسٹر اسد الدین اویسی

بلڈانہ: (ذوالقرنین احمد کی خصوصی رپورٹ) : مہاراشٹر اسمبلی انتحابات کی تشہیر زور وشور سے جاری ہے ، کانگریس اور راشٹروادی کانگریس متحدہ طور پر میدان میں ہے اسی طرح بی جے پی بھی پوری زور آزمائی کا مظاہرے کرتے ہوے بی جے پی شیو سینا متحدہ طور پر انتخابات لڑ رہی ہے۔ اسی طرح ونچت بہوجن اگھاڑی نے اپنے امیدوار پورے مہاراشٹر میں اتارے ہے۔ ایم آئی ایم نے پہلی مرتبہ مہاراشٹرا اسمبلی انتحابات میں اپنے 44 امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے۔

ممبر آف پارلیمنٹ اسدالدین اویسی اور ممبر آف پارلیمنٹ و مہاراشٹر کے صدر ایم آئی ایم امتیاز جلیل کے مشورہ سے بڑی سوچ بوجھ کے ساتھ اپنے امیدوار کو کھڑا کیا ہے۔ جہاں سے انکی سیٹیں یقینی طور پر مسلم ووٹوں پر نکل سکتی ہے۔ لیکن یہ وہ اس وقت ممکن ہوسکتا ہے جب مسلمانوں کے ووٹ منتشر نا ہونے پائے۔ اسی لیے 15 روز سے بیرسٹر اسدالدین اویسی صاب مہاراشٹر میں ایم آئی ایم کے امیدواروں کی تشہیراتی مہم کیلے سرگرداں ہیں۔ بلڈانہ اسمبلی حلقہ سے ایم آئی ایم کے امیدوار سجاد سیٹھ میدان میں ہے۔ سجاد سیٹھ نے بہوجن اگھاڑی سے بلڈانہ اسمبلی حلقہ سےمتوقع امیدوار تھے لیکن ونچت سے امیدواری نا ملنے کی صورت میں سجاد سیٹھ نے حال ہی میں ایم آئی ایم میں شمولیت اختیار کی تھی اور انہیں اسی کے ساتھ بلڈانہ اسمبلی حلقہ سے ایم آئی ایم نے اپنا امیدوار منتخب کرکے میدان میں اتارا ہے۔

سجاد سیٹھ کی انتخابی مہم کیلے آج 17 اکتوبر بروز جمعرات کو ایم آئی ایم کے صدر و ممبر آف پارلیمنٹ اسدالدین اویسی صاحب نے بلڈانہ میں سجاد سیٹھ کیلے تشہیراتی جلسہ عام سے خطاب کیا۔ بعد نماز ظہر اسدالدین اویسی جلسہ عام سے مخاطب ہوئے۔ اسدالدین اوسی صاحب نے انتخابی جلسہ میں کہا مودی حکومت نے جو طلاق ثلاثہ کا بل پاس کیا ہے اس سے مسلم خواتین کو مشکل و پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا، لیکن بی جے پی نے اپنی طاقت کا غلط استعمال کرکے ہندوستان کے سویدھان کی دھجیاں اڑائی ہے۔ مجھےکرسی اور لال بتی کی گاڑی کا شوق نہیں ہے۔ باوقار زندگی گزارنے کیلے مجلس کام کر رہی ہے۔ مظلوم عوام کیلئے لڑنے کی ضرورت ہے۔

بی جے پی کے پاس 306 ایم پی ہے۔ اور وہ سمجھتے ہوگے کہ ہم مغلوب ہوجائے گے، نہیں نا ہم مغلوب ہوگے نا خوف کھائے گے۔ برسٹر اوسی نے کہا کے وزیر اعظم سے کہنا چاہتا ہوں مسلم اقلیت کو آرکشن کیوں نہیں دیا جاتا ہے۔ جب تمہاری ہمدردی کہا چلی جاتی ہے۔ مسلم آرکشن کی بات کرتے ہوئے اویسی نے کہا کے میں مذہب کے نام پر آرکشن کی بات نہیں کررہا ہو جو طبقہ سماج بچھڑا ہوا ہو اسے بھارت کے آئین کے مطابق آرشکن مل سکتا ہے۔ انہوں سچر کمیٹی کی رپورٹ کا حوالہ بھی دیا مہاراشٹر میں ہماری ملازمتوں کا گراف گرتا جارہا ہے ہمارے آئی اے ایس افیسر نہیں ہے۔ ہماری سرکاری نوکریوں مین فیصد بہت کم ہے۔ وزیر اعظم سب کا ساتھ سب کا وکاس کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہے۔ مراٹھا کے پاس طاقت ہے اور وہ سڑکوں پر اپنے حق کیلے نکلے احتجاج کیا تو بی جے پی نے انہیں آرشکن دیا۔ مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی جیت ہار کا سوچ لیتے ہیں۔ تاریخ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے ہمیں دعاؤں کے ساتھ میدان کار زار میں اترنا ہوگا کیا تم بھول گئے کملی والے کے دندان مبارک شہید ہوئے تھے۔ ہمیں دعاؤں کے ساتھ عملی اقدامات بھی کرنے ہوگے۔ ہمیں جمہوری حق رائے دہی کا صحیح استعمال کرنا ہوگا، ۔مزید کہا کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کو دوسری مرتبہ اقتدار میں لانے میں سب سے بڑا ہاتھ کانگریس کا ہے۔ ہم ستر سال سے قلی کا رول ادا کر رہے ہیں۔ اسدالدین اویسی نے این آر سی سے پر بھی کہا کے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے حکومت کو چاہیے کے کروڑوں روپیہ اس پر خرچ ہوگا اگر اتنا پیسہ غریب کسانوں پر اور غریب عوام پر خرچ کیا جائے تو اسکا بہت فائدہ ہوگا۔ انہوں نے مزید اس پر تنز کا نشانہ بناتے ہوئے کہا آسام میں لاکھوں غیر مسلموں کے این آر سی میں نام نا ہونے کی بنا پر اب یہ لوگ ہی اسکی مخالفت کر رہے۔ بیرسٹر اوسی نے کشمیر سے آرٹیکل 370 کے ہٹائے جانے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ مہاراشٹر میں ہزاروں کسانوں کی قرض کے بوجھ تلے دب جانے پر خودکشی کرنے پر افسوس ظاہر کیا۔ اور عوام سے متحد ہوکر ایم آئی ایم کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کی۔

سجاد سیٹھ کے اس انتخابی تشہیراتی جلسہ میں بلڈانہ ضلع ایم آئی ایم کے لیڈر دانش بھائی نے کہا کے کانگریس نے ہمیں 70 سالوں سے غلامی میں رکھا ہے۔ اور آج بھی صرف چند مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے۔بلڈانہ اسمبلی حلقہ سے ایم آئی ایم کے امیدوار سجاد سیٹھ نے کہا کہ میں 20 سال الگ الگ پارٹیوں میں رہا مجھے کبھی آگے بڑھنے کا موقع نہیں دیا گیا یہاں تک کہ تقریر کرنے کا بھی موقع نہیں دیا گیا۔ بلڈانہ ضلع کے ایم آئی ایم کے صدر شہزاد خان نے اپنی تقریر عوامی جلسے میں کہا کہ جس وقت طلاق ثلاثہ کا بل کو پاس کیا جارہا تھا اس وقت کانگریس کے لیڈر پارلیمنٹ سے واک آؤٹ کر رہے تھے۔ اور میرا قاید بیرسٹر اسدالدین اویسی اکیلا شریعت محمدی کی حفاظت کیلے آواز بلند کر رہا تھا۔ اس موقع پر اسٹیج پر ایم آئی ایم کے پورے ضلع کے لیڈران موجود تھے جس میں اورنگ کے شہر صدر، بلڈانہ ضلع کے صدر شہزاد خان، دانش بھائی، ملکاپور کے ایم آئی ایم کے لیڈران، ممتاز بشر سر، اور ایم آئی ایم کی دیگر شخصیات موجود تھے۔ اس تشہیراتی عوامی جلسہ میں بلڈانہ و اطراف سے نوجوانوں نے شرکت کی ہزاروں کی تعداد میں لوگ موجود تھے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading