مسئلہ طلاق، میں الزام اُس کو دیتا تھا قصور اپنا نکل آیا

اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

طلاق طلاق طلاق، یہ چہار حرفی لفظ سہ بارتکرار کی صورت میں، بمبار طیارے سے نکلی ہوئی میزائیل کی طرح مرد کی زبان سے، جب اس کی رفیق حیات پر گرائی جاتی ہے تو اس بیچاری پر کیا قیامت ٹوٹتی ہے اس کا اندازہ شاید ہی کوئی مرد لگا سکے۔ نہ صرف اس کی وجہ سے اس کی دنیا اجڑتی ہے بلکہ سماج میں بھی اس کی عزت پر ہمیشگی کاایک داغ لگ جاتا ہے، اس کے سارے خواب جو اُس نے اپنے مستقبل کے تعلق سے سجا رکھے تھے ریت کے گھروندے کی طرح بکھر جاتے ہیں، اس کے بچوں کا مستقبل بنا پتوار کے کشتی کی طرح غیر یقینی ہوجاتا ہے، اگر اس کے ماں باپ یا خاندان والوں نے اس کا ساتھ دیا تو ٹھیک ہے ورنہ فکر معاش میں اس کی باقی کی ساری زندگی اور زندگی کی خوشی بے رنگ و بد ذائقہ ہو کر تپتے ہوئے صحراؤں کی طرح دوزخ کا نمونہ بن جاتی ہے۔ اس سے قطع نظر کے قصور کس کا تھا، اس پوری کاروائی میں سب سے زیادہ عورت ہی متاثر ہوتی ہے۔ ایک تو پہلے ہی سے اپنی مخصوص جسمانی ساخت کی وجہ سے کمزور مخلوق اس پر سماج کی بنائی گئی خود ساختہ بندشوں میں جگڑی، بھلے سے غلطی اس کی ہی رہی ہو، لیکن صرف ایک لفظ کے ذریعے اس کو دودھ میں گری مکھی کی طرح اپنی زندگی سے نکال پھینکنااور وہ بھی اُس کی اپنی صفائی کا موقع دئے بغیر، کیا درست ہو سکتا ہے؟

کیاانسانیت کی بھلائی کے لئے خدا کی طرف سے نازل کردہ شریعت ایسے ظلم کی حمایت کر سکتی ہے؟۔۔۔ نہیں، ہر گز نہیں، شریعت نام ہے مخلوقِ خدا میں انصاف اور بھلائی کے قائم کر نے کا، شریعت نام ہے انسانوں میں انسانیت اور رحم دلی کے فروغ کا، شریعت نام ہے کائنات میں بھائی چارگی، خیر خواہی اور اتحاد و اتفاق کو رواج دینے کا۔ شریعت کا منشا انصاف کا قیام ہے نہ کہ مرد و زن میں کسی کی بے جا تائید۔ قرآن شریف جو شریعت کا اصلی ماخذ ہے، اس میں صراحت کے ساتھ طلاق اور اس کے استعمال کے تعلق سے تفصیلی رہنمائی موجود ہے، طلاق کب دینی چاہئے، کیوں دینی چاہئے اور کیسے دینی چاہئے، قرآن مجید میں ربِ کائنات نے، پوری وضاحت کے ساتھ یہ باتیں کھول کھول کر بیان کردی ہے۔ اِس کی تشریح میں خاتم النبین ﷺ کی صحیح احادیث ہماری چشمِ بصیرت کو وا کرنے کے لئے موجود ہیں۔ اگر اِس کے باوجود کوئی شامت کا مارا نفس اور شیطان کے بہکاوے میں آکر، اِن قوانین سے کھلواڑ کرتا ہے اور اپنے اِس فعل بد کو شریعت کا قانون بتا کر اُس پر اصرار بھی کرتا ہے، تو نہ صرف وہ اپنی عاقبت بگاڑ رہا ہے، بلکہ شریعت کا کھلم کھلا مذاق بنا کر دنیا وی سزا کا بھی حقدار بن گیا ہے۔ ایسے گستاخ شریعت کی حمایت بھی ناقابلِ تلافی جرم ہے۔ شاید ہی کوئی اس بات سے انکار کرسکتا ہے کہ ہماری تمام تحریریں اور تقریریں جو طلاق کے مد میں لکھی اور کی جاتیں ہیں، اُن میں شروع ہی سے عورت کو قصور وار مان لیا جاتا ہے، عورت پر الزامات کی ایک لمبی فہرست تیار کی جاتی ہے اور پھر ا س پر نصیحتوں کے انبار لگا دئے جاتے ہیں۔ مرد کو ایک خود ساختہ آسمان پر بٹھا کر، اس کی تابعداری اور فرمابرداری کو ہی عورت کا اولین فرض بتایا جاتا ہے، چاہے وہ کتنا بھی ظلم کرے،اُس پر جبر کے پہاڑ توڑے، اُف تک کرنے کی ممانعت کی جاتی ہے۔ مرد کی جا و بے جا خواہشات کے آگے خود کو بچھادینے اور اپنی خواہشات کو قربان کر کے اس کے لئے اپنی ذات فنا کردینے کو ہی ایک عورت کی اصلی کامیابی باور کرائی جاتی ہے۔ ہمیں اپنا یہ بیانیہ بدلنے کی ضرورت ہے۔ مردانہ عصبیت کی شکاراس سوچ کو بدلنے کے لئے علماء و دانشور حضرات کو چاہئے کہ وہ از سر نو ایسے بیانیہ مرتب کریں جس میں قانونِ شریعت کے آگے عورت ومرد برابر شمار کئے جائیں، ان میں جنس کی بنیاد پر کوئی تفریق نہ برتی جائیں اور یہ جو ہمیشہ سے ہی عورت کو قصوروار گرداننے کا رواج چلا آرہا ہے اس کی نفی کرتے ہوئے مرد کی غلطیوں کو بھی اجاگر کیا جائے اور اس کے ظلم و جبر کی نشاندہی کر تے ہوئے عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور انہیں ان کا حق ہر حال میں دینے کی تلقین کی جائے۔

شاہ بانو سے لے کر سائرہ بانو تک عورتوں کی ایک لمبی قطار ہے جو شریعت سے نہیں ہماری تشریحات اور ہماری بیانیات سے نالاں ہو کر کفر و الحاد کے چوکھٹوں پر سر تسلیم خم کئے ہم سے بغاوت پر مُصر نظر آتی ہیں۔ اگر ہم نے اب بھی اپنے رویوں میں تبدیلی پیدا نہیں کی، قرآن و حدیث کو قانون شریعت کا منبع و مصدر مان کر اس سے مسائل حل کرنے کے بجائے روایات اور تشریحات میں الجھے رہے۔ حالات کی سنگینی کو سمجھے بغیر ان جدید مسائل پر اجتہاد سے گریز کرتے ہوئے اندھی تقلید اور اکابر پرستی کے پگڈندیوں پر ہی گامزن رہے، اور امت پر آسانیاں فراہم کرنے اور انہیں کشادہ راہوں پر لانے کی اپنی ذمہ دارای سے غفلت برتتے رہے تو کچھ بعید نہیں کہ رب العالمین اپنی شریعت کی حفاظت اور انصاف کے تقاضے پورا کرنے کے لئے کفر و الحاد کے ایوانوں سے اپنے بد ترین دشمنوں کو کھڑا کر دے اور ان سے کام لے لے اور ہم جو خو د کو شریعت کے محافظ اور اس کے پاسبان باور کراتے پھر رہے ہیں ہم منہ دیکھتے رہ جائیں۔ اس کی وجہ سے دنیا میں ہماری جو ذلت ہوگی وہ تو ہوگی ہی، کل قیامت میں بھی ہمیں اپنے رب کے حضور شرمندہ کھڑا ہونا پڑیگا۔ رب کائنات ہمیں سمجھ دے اور عقل سلیم عطا کرے۔ آمین

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading