گئوکشی کے الزام میں مسلمانوں پر NSAکے تحت کاروائی ،سیکولرحکومت کا پہلاتحفہ
غلام مصطفےٰ نعیمی
جنرل سیکریٹری تحریک فروغ اسلام دہلی
زیادہ دن نہیں گزرے کہ ہندی بیلٹ کے تین صوبوں میں کانگریس کی جیت پر کچھ امید پرست مسلمان پھولے نہیں سما رہے تھے۔ایسا لگ رہا تھا کہ کانگریس نہیں بلکہ ہمارے یہی عزت مآب احباب فتح یاب ہوئے ہیں ۔حالانکہ اگر تینوں صوبوں (راجستھان،مدھیہ پردیش،چھتیس گڑھ)کا مسلم ممبران اسمبلی کا تناسب نکالاجائے توتینوں اسمبلی میں کل 7مسلم ممبران منتخب ہوئے ہیں ،لیکن پھر بھی بعض مسلمانوں کی خوشی دیدنی تھی۔اب جبکہ خوشیاں منانے والے کچھ آرام کر رہے ہیں تو کانگریس حکومت نے بھی انعام واکرام کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔اس سلسلے میں مدھیہ پردیش کی حکومت نے محض تین دن کے اندر پہلےگوکُشی اور بعد میں گایوں کی اسمگلنگ کے الزام میں دو الگ الگ مقامات پر پانچ لوگوں کے خلاف NSA کے تحت کاروائی کرکے اشارہ دے دیا ہے کہ ان کی "نوازشات” کا عالم کیا ہوگا۔اس لئے قوم اپنے دامن کو تیار رکھے "نوازشات” کبھی بھی ،کہیں بھی کی جاسکتی ہے۔
اصل معاملہ:
پانچ فروری 2018 کو موضع کھرکھالی ضلع کھنڈوا میں پولیس نے گوکُشی کے الزام میں تین مسلمانوں کو گرفتارکیا۔گرفتار شدگان میں شکیل، محمد ندیم اورمحمد اعظم شامل ہیں.
جب پولیس جائے واردات پر پہنچی تو انہیں وہاں کوئی نہیں ملا،ہاں مذبوحہ جانور کے باقیات ضرور ملے۔انہیں باقیات کو گائے بتا کر تین لوگوں کے خلاف گو کُشی ایکٹ کے تحت کیس فائل کیا گیا لیکن بعد میں ان تینوں پر NSA یعنی نیشنل سیکورٹی ایکٹ قانون لگاکر جیل بھیج دیا گیا۔
این ایس اے(NSA) نامی قانون ملکی سلامتی کی حفاظت کے لئے بنایا گیا ہے جو دہشت گردوں پر لگایا جاتا ہے لیکن کانگریس جیسی سیکولر پارٹی نے گوکُشی کرنے کے الزام محض پر ہی یہ خطرناک قانون لگا کر بتا دیا ہے کہ وہ اس معاملہ میں بی جے پی سے ذرہ برابر بھی کم نہیں ہے۔ اس قانون کے اطلاق سے اب ان لوگوں کو ایک سال تک ضمانت نہیں مل پائے گی۔
موگھاٹ تھانہ انچارج موہن سنگورے نے بتایا کہ پہلے ان لوگوں پرگوکُشی ممانعت قانون کی دفعہ4,6,9کے تحت کیس درج کیا تھا بعد میں پولیس کپتان کی سفارش پر ضلع کلکٹر نے ان پر این ایس اے(NSA) کے نفاذ کو منظوری دی ۔اس قانون کے تحت انہیں لمبے وقت تک حراست میں رکھا جاسکتاہے. حالانکہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ سب آپسی رنجش کا معاملہ ہے اور گوکشی کا الزام جھوٹاہے۔
تینوں ملزمین میں سے شکیل اور ندیم کھنڈوا کے رہنے والے ہیں صرف اعظم کا تعلق کھرکھالی گائوں سے ہے لیکن پولیس نے تینوں کو ہی کھرکھالی گاؤں کا بتا کر ملزم بنا دیا ہے۔دوسرا معاملہ مَالوَہ شہر کا ہے جہاں پولیس نے گایوں کی اسمگلنگ کے الزام میں دو لوگوں پر این ایس اے قانون لگایا ہے۔
*پولیس تھیوری اور حکومت کی منشا:
پولیس رپورٹ کے مطابق موقع واردات پر کوئی نہیں ملا،ہاں مذبوحہ جانور کے باقیات ملے۔بعد میں گوشت کا کام کرنے والے تین افراد کو ملزم بناکر گرفتار کیا گیا۔اس رپورٹ پر کچھ سوالات کھڑے ہوتے ہیں:
🔹 جب موقع واردات پر کوئی نہیں ملا تو ان تین افراد کو کس بنیاد پر گرفتار کیا گیا؟
🔹 جائے واردات سے برآمد گوشت کی میڈیکل جانچ کے بغیر ہی اسے گائے کا گوشت کیوں بتایا گیا؟ممکن ہے کہ گوشت بھینس کا ہو۔
🔹 ندیم اور شکیل کھنڈوا کے رہنے والے ہیں تو وہ کھرکھالی گاؤں کے کیس میں کس بنا پر ماخوذ کئے گئے؟
🔹 جب ان تینوں پر گوکُشی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کردیا گیا تھا تو این ایس اے جیسا سخت قانون کیوں لگایا گیا؟
صوبے میں پچھلے15سال سے بی جے پی کی حکومت تھی اس لئے پولیس کی ذہنی ساخت تبدیلی حکومت کے باوجود ابھی بھی ویسی ہی ہے۔سابقہ بی جے پی حکومت میں گوکُشی کے نام پردھڑلّے کے ساتھ این ایس اے قانون لگایا گیا تھا،انڈین ایکس پریس(Indian Express ) کی خبر کے مطابق 2007سے 2017کے مابین بی جے پی حکومت نے 22 لوگوں پر این ایس اے کے تحت مقدمات درج کئے تھے۔موجودہ کانگریس حکومت نے بھی سابقہ حکومت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے "مسلم نوازی”کا کام شروع کردیا ہے،اور محض تین دن(پانچ فروری سے آٹھ فاروری تک) میں ہی پانچ لوگوں پر این ایس اے لگا دیا ہے۔اگر کانگریس حکومت اسی رفتار سے چلتی رہی تو بی جے پی کا دس سال کا ریکارڈ دس مہینے میں ہی ٹوٹ جائے گا۔حالانکہ سابق وزیر اعلیٰ دِگوِجے سنگھ نے گوکُشی کے معاملے این ایس اے لگانے پر اظہار ناراضگی کیا ہے. لیکن اگر دِگوِجے سنگھ جی اس معاملہ پر سنجیدہ ہیں تو انہیں دباؤ بنا کر حکومت کو رجوع پر مجبور کرنا چاہیے کیوں کہ موجودہ حکومت کی سیاسی سرپرستی انہیں کے پاس ہے.
*قوم مسلم دوراہے پر:
اس طرح کے معاملات نہ تو پہلی مرتبہ سامنے آئے ہیں اور نہ ہی انہیں آخری کہا جا سکتا ہے۔لیکن ہماری قوم کی سادہ دلی کاعالم دیکھئے کہ ستّر سال گزر جانے کے بعد بھی کوئی لائحہ عمل تیار نہیں کرپائی۔کوئی ذرا سی جھوٹی تسلی دیدے بس اسی کے پیچھے لگ جاتی ہے۔جواہر لعل نہرو سے لیکر اندرا گاندھی،وی پی سنگھ،ملایم سنگھ،لالو پرساد،نتیش کمار،مایاوتی،اکھلیش یادو،ممتا بنرجی،کے سی آر،شرد پوار،چندر بابو نائڈو،کیجری وال تک کتنے نام ہیں جن کی اقتدا ہماری قوم نے دل وجان سے کی مگر افسوس !!
آگے تو کیا جاتے جہاں سے چلے تھے اس سے کئی سال پیچھے پہنچ گئے ۔
مگر کبھی ٹھہر کر اپنی رفتار، طریقہ کار اور ماضی کے طرز عمل پر غور نہیں کیا کہ جنہیں ہم نے مقتدا بنایا وہ فرش سے عرش تک پہنچ گئےلیکن ہم فرش کی پستیوں میں گرتے چلے گئے اور گرنے کا سفر ہنوز جاری ہے۔
آج ایک بار پھر قوم دوراہے پر کھڑی ہے۔سمجھ نہیں آرہا ہے کہ کدھر جائے؟ ایک طرف شدت پسندوں کا ٹولہ ہے جو آپ کو مارنے دوڑتا ہے تودوسری طرف سیکولروں کی جماعت ہے جسے آپ کا ووٹ تو چاہئے مگر آپ کو جمہوری حق دینا اسے بھی گوارا نہیں۔اس لئے اب ماضی کے طریقہ عمل پرغورکرنے کا وقت ہے۔
🔸کب تک کرایوں کے گھر میں رہیں گے؟
🔸گائے کے نام پر کتنے لوگوں کی قربانی دیں گے؟
🔸کب تک دوسروں کے آسرے زندگی بسر کریں گے؟
موجودہ روش پر چلتے ہوئے دو پیڑھیاں گزر چکی ہیں تیسری پیڑھی موجود ہے کیا آپ چوتھی پیڑھی کو بھی یہی مسائل وراثت میں چھوڑ کر جائیں گے؟؟؟
سوچئے،غور وفکر کیجئے، جمہوری حقوق کے لئے میدان عمل میں آئیے،غیروں کی اقتدا چھوڑیے،اپنے قوت باز پر بھروسہ کیجیے:
بقا کی فکر کرو خود ہی زندگی کے لئے
زمانہ کچھ نہیں کرتا کبھی کسی کے لئے
غلام مصطفیٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
مؤرخہ 2 جمادی الثانی 1439ھ
8 فروری 2019 بروز جمعہ